1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیٹ فلیکس ’عالمی ٹی وی نیٹ ورک‘ بن گیا

اسٹریمنگ کے بانی امریکی ادارے نیٹ فلیکس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی خدمات کا دائرہ 190 ممالک تک بڑھا دیا ہے۔ یہ انٹرنیٹ ٹی وی اب بھارت سمیت 130 ممالک میں دستیاب ہے۔

نیٹ فلیکس کا کہنا ہے کہ چین میں تاہم ابھی یہ سروس مہیا نہیں کی جا سکی ہے۔

کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی نیٹ فلیکس کمپنی نے ڈی وی ڈی مہیا کرنے سے کاروباری کا آغاز کیا تھا، تاہم پرانی فلموں اور شوز کے علاوہ باکس آفس پر شان دار کاروبار کرنے والی فلمیں بھی آن لائن اسٹیمنگ پر پیش کرنے کا سلسلہ سن 2007 سے جاری ہے۔ اس کے صارف محدود خدمات کے بدلے میں ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں۔

لاس ویگاس میں جاری کنزیومر الیکٹرونکس شو کے دوران اس ادارے کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو ریڈ ہاسٹنگز کا کہنا تھا، ’’آج آپ ایک نئے عالمی انٹرنیٹ ٹی وی نیٹ ورک کی شروعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اس اجرا کے ساتھ ہی، دنیا بھر کے صارف، سنگاپور سے لے کر سینٹ پیٹرز برگ تک اور سان فرانسیسکو سے لے کر ساؤ پاؤلو تک ایک ہی وقت میں ٹی وی شوز اور فلمیں دیکھ سکیں گے۔ اب مزید انتظار کی ضرورت نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اس وقت جب آپ میری بات سن رہے ہیں، نیٹ فلیکس سروس دنیا کے تقریباﹰ تمام ممالک میں براہ راست شروع ہو چکی ہے۔ چین ابھی اس فہرست میں نہیں مگر ہمیں امید ہے کہ ہم مستقبل قریب میں وہاں بھی اپنی خدمات شروع کر دیں گے۔‘‘

نیٹ فلیکس کے مطابق وہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں اپنے خدمات کے اجراء کے امکانات پر غور کرتا رہے گا۔ چین میں آن لائن مواد پر حکومتی سینسر شپ قواعد انتہائی سخت ہیں اور خصوصاﹰ اس کی وجہ سیاسی حساسیت ہے۔

ہیسٹنگز نے بتایا کہ چین میں یہ سروس شروع کرنے کے لیے انہیں بیجنگ حکومت کی جانب سے ایک خصوصی اجازت نامہ درکار ہے اور اس اجازت نامے کے حصول میں ’کچھ وقت لگ سکتا ہے‘۔

چین کے علاوہ جن ممالک میں یہ سروس مہیا نہ کی جا سکتی ہے، ان میں شام، شمالی کوریا اور کریمیا شامل ہیں۔