1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو 40 فی صد شہری ہلاکتوں کے لئے ذمہ دار: رپورٹ

افغانستان میں طالبان اور اتحادی افواج کے مابین جاری لڑائی کے نتیجے میں سال دو ہزار آٹھ میں تقریباً 2100 شہری ہلاک ہوئے ہیں جو کہ دو ہزار سات کے مقابلے میں چالیس فی صد کا اضافہ ہے۔

default

طالبان اور اتحادی افواج کے مابین جاری جنگ میں اکثر افغانستان کے شہری مارے جاتے ہیں

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں عسکریت پسندوں کو 55 فی صد جبکہ اتحادی اور افغان فورسز کو تقریباً 40 فی صد شہری ہلاکتوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے افغان عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر کئے جانے والے فضائی حملوں میں اکثر عام شہری نشانہ بنتے ہیں۔ ہلاک شدگان کی بڑی تعداد بچّوں اور خواتین کی ہوتی ہے۔

Terroranschlag in Kunduz

افغان صوبے قندوز میں ایک خودکش حملے کے بعد اس زخمی افغان بچّے کو علاج کے لئے ہسپتال پہنچایا گیا

رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان عسکریت پسندوں کے خودکش حملوں اور سڑک کے کنارے نصب کئے جانے والے بموں کے نتیجے میں اکثر افغان شہری مارے جاتے ہیں۔ دو ہزار آٹھ کے دوران باغیوں کے ایسے حملوں میں تقریباً بارہ سو افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں لگ بھگ ساڑھے آٹھ سو افغان شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

Bundeswehr tötet Zivilisten in Afghanistan

افغانستان میں بین الاقوامی سیکیورٹی فورس ISAF کے اکیاون ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں

اتحادی فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی میں 38 امدادی کارکن بھی ہلاک ہوئے جبکہ اس دوران تقریباً 150 کارکن اغوا کئے گئے۔

اقوام متحدہ نے اپنی اس رپورٹ میں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ لڑائی کے دوران عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر ضروری اقدامات اُٹھائیں۔

Afghanistan Präsident Hamid Karzai während einer Pressekonferenz im Präsidentenpalast in Kabul

افغانستان کے غیر مقبول صدر حامد کرذئی اور ان کی حکومت پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے افغان مشن کے حقوق انسانی یونٹ نے مرتب کی ہے۔ غیر جانبدار اور آزاد مبصرین نے یہ رپورٹ مرتب کرنے سے پہلے ایسے بہت سے واقعات کی چھان بین اور تحقیقات کی ہیں جن میں عام شہریوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

افغانستان میں اسی سال صدارتی انتخابات ہورہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے صدر حامد کرذئی امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ اسے عسکریت پسندوں پر حملوں کے وقت شہریوں، بالخصوص بچّوں اور خواتین، کی حفاظت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں افغان صدر کے ایسے بیانات کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے کیوں کہ انتخابات سے قبل وہ ضرور اپنے ووٹروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر حامد کرذئی کو اپنے شہریوں کی ہلاکت کا اتنا ہی دُکھ ہے تو وہ کیوں کر افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے مطالبات کررہے ہیں۔ افغان صدر حامد کرذئی اور ان کی حکومت پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں اور ملک میں اُن کی مقبولیت میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔