1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل نے ذمے داریاں سنبھال لیں

ڈنمارک کےسابق وزیر اعظم آندرس فوگ راسموسن، یاپ دے ہوپ شیفر کی ساڑھے پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد اس تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

default

ڈنمارک کےسابق وزیر اعظم آندرس فوگ راسموسن، نیٹو کے سیکریٹری جنرل بن گئے

Merkel , Anders Fogh Rasmussen , Anne Mette Rasmussen

آندرس فوگ راسموسن جرمن چانسلر انگیلامیرکل اور اپنی اہلیہ این راسموسن کے ساتھ

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے نئے سربراہ نے آج یکم اگست سے اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ ڈنمارک کےسابق وزیر اعظم آندرس فوگ راسموسن، یاپ دے ہوپ شیفر کی ساڑھے پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد اس تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

مغربی دفاعی اتحاد کے رہنماؤں نے ڈنمارک کےسابق وزیر اعظم آندرس فوگ راسموسن کو اپریل میں ہونے والے ایک اجلاس میں نیٹوکا سیکریٹری جنرل منتخب کیا تھا۔ 56 سالہ راسموسن تین مرتبہ ڈنمارک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، اور نیٹو اتحاد کی سربراہی کرنے والے سینئر ترین سیاست دان ہیں۔ سیکریٹری جنرل کے طور پر راسموسن نہ صرف مغربی دفاعی اتحاد کی کارکرگی کو مربوط بنائیں گے اور اس تنظیم کے عملے کی قیادت کریں گے، بلکہ وہ اُس شمالی اوقیانوسی کونسل کی صدارت بھی کریں گے جو سیاسی سطح پر نیٹو کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے۔

ترکی کی جانب سے راسموسن کے بطورسیکرٹری جنرل ا نتخاب پر شدید اعتراض کیا گیا تھا۔ سال 2006 میں راسموسن کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ڈنمارک کے ایک اخبار نے پیغمبر اسلام کے بہت متنازعہ خاکے شائع کئے تھے۔ ان خاکوں کی اشاعت کے بعد بہت سے اسلامی ملکوں میں شدید ردعمل اور خونریز مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے، جبکہ راسموسن نے ڈینش وزیر اعظم کے طور پر ان خاکوں کی اشاعت کا دفاع کیا تھا۔ راسموسن کی جانب سے نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے طور پر نامزدگی سے قبل اس معاملے پر معذرت نہ کرنے کی بناء پر انقرہ حکومت نے اس بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ وہ نیٹو کے سربراہ کی حیثیت سے مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کو کس طرح فروغ دے پائیں گے۔

Jaap de Hoop Scheffer

نیٹو کے سابق سیکریٹری جنرل یاپ دے ہوپ

راسموسن امریکہ کی زیر قیادت سال 2003 میں عراق کے خلاف جنگ کے نہ صرف بھرپور حامی رہے ہیں بلکہ انہوں نے وہاں ڈنمارک کے فوجی بھی بھیجے تھے۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں کے حوالے سے بھی وہ نیٹو میں شامل ریاستوں پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنے مزید فوجی دستے افغانستان بھیجیں، جہاں ڈنمارک کے بھی 700 فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

نیٹو سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے راسموسن کے لئے افغانستان سب سے بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ حالیہ دنوں میں وہاں مغربی دستوں کو ہونے والے جانی نقصان کے باعث نیٹو کی رکن ریاستوں میں افغانستان کی جنگ کے خلاف عوامی رائے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لئے اب ان کی کوشش ہوگی کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو جلد از جلد تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے ملک میں سلامتی کے امور کے خود ذمہ دار ہوں۔

اس وقت افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں بین الاقوامی حفاظتی فوج ISAF میں 42 ممالک کے 64 ہزار 500 فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں قریب 30 ہزار امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔یکم اگست سے نیٹو کے سیکریٹری جنرل بننے والے راسموسن ساڑھے پانچ سال تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک