1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو کے منصوبے پر پاکستان کا ’محتاط اطمینان‘

پاکستان نے افغانستان میں سکیورٹی ذمہ داریاں مقامی فورسز کے حوالے کرنے سے متعلق نیٹو کے منصوبے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ساتھ ہی ’زمینی حقائق‘ کو تسلیم کئے بغیر انخلاء سے خبردار بھی کیا ہے۔

default

ہفتہ کو پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہی اجلاس میں افغانستان میں امن و امان کے قیام کی ذمہ داریاں 2014ء تک مقامی سکیورٹی فورسز کو منتقل کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ افغان مشن میں شامل متعدد مغربی ممالک وہاں سے اپنی فوجوں کا انخلاء چاہتے ہیں، جہاں تقریباﹰ ایک دہائی سے جاری جنگ کا وہ حصہ ہیں۔ ان ممالک کے عوام میں بھی افغان جنگ غیرمقبول ہے۔

نیٹو کا یہ بھی کہنا ہے کہ سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوئی تو 2014ء تک ہی جنگی آپریشن بھی روکے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھی یہی کہنا ہے کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء سے قبل وہاں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ضروری ہے۔

شاہ محمود قریشی انڈونیشیا کے دورے پر ہیں، انہوں نے وہاں سے خبررساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ غیرملکی افواج کا افغانستان سے انخلاء زمینی حقائق کے تناظر میں ہونا چاہئے، ساتھ ہی اس کا انحصار وہاں سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے افغان حکام کی قابلیت پر بھی ہے۔

Pakistan Außenminister Shah Mehmood Qureshi

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ یا اس سے بھی خراب صورت حال پاکستان کی ایک بڑی تشویش ہے، جو خود بھی مقامی شدت پسندوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔

اس بارے میں طالبان اور قبائلی امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا، ’اگر افغان فوج صورت حال پر قابو پانے میں ناکام رہی اور غیرملکی افواج بھی وہاں سے چلی گئیں تو وہاں ایک اور خانہ جنگی شروع ہوجائے گی، جو پاکستان پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرے گی۔‘

دوسری جانب افغانستان اور پاکستان کے لئے امریکی مندوب رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے کہ 2014ء تک سکیورٹی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ غیرملکی افواج وہاں موجود نہیں ہوں گی۔

جنگ زدہ افغانستان میں استحکام کے لئے امریکی سربراہی میں جاری کارروائیوں میں پاکستان کا کردار اہم خیال کیا جاتا ہے۔ افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کے لئے محفوظ پناہ گاہوں کو اس کی ایک وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ شدت پسند ان علاقوں میں دہشت گردی کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ مغربی اتحادی وہاں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے لئے اسلام آباد حکومت پر زور دیتے رہتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس