1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو کے تازہ حملے، طرابلس لرز اٹھا

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق نیٹو طیاروں نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور اس کے مشرقی مضافاتی علاقے میں کئی طاقتور فضائی حملے کیے ہیں۔ متعدد طاقتور دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

default

علاقے میں موجود خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیان شب رات دو بجکر 30 منٹ پر طرابلس چار طاقتور دھماکوں سے گونج اٹھا، تاہم ان دھماکوں کے مقام کا تعین نہیں ہوسکا۔ اس رپورٹر کے مطابق ہفتے کی شام مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے کے قریب دو بہت شدید مگر کافی فاصلے پر دھماکے سنائی دیے۔ کچھ منٹ کے وقفے کے بعد متعدد دیگر دھماکوں کی آواز بھی سنائی دی۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکے تاجورا میں ہوئے۔ طرابلس کے مضافات میں موجود اس مقام کو نیٹو کی طرف سے 31 مارچ سے شروع کیے جانے والے فضائی آپریشن کے دوران کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تاجورا کو باغیوں کا حامی علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

لیبیا کے خلاف جاری فضائی کارروائی کے لیے فرانس کی طرف سے چار ٹائیگر اٹیک ہیلی کاپٹرز مہیا کیے گئے ہیں

لیبیا کے خلاف جاری فضائی کارروائی کے لیے فرانس کی طرف سے چار ٹائیگر اٹیک ہیلی کاپٹرز مہیا کیے گئے ہیں

تاجورا کے رہائشیوں کے مطابق یقینی طور پر یہ کہنا تو ممکن نہیں ہے کہ ان حملوں میں کن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم علاقے سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ رہائشیوں کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو کے طیارے حملے کے بعد بھی کافی دیر تک فضا میں موجود رہے۔

قبل ازیں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی طرف سے ہفتے کے اعلان کیا گیا تھا کہ اس نے لیبیا کے خلاف جاری فضائی کارروائی میں پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹرز استعمال کیے ہیں۔ ان حملوں میں لیبیا کی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں لیبیا کے خلاف جاری آپریشن یونیفائیڈ پروٹیکٹر کے سربراہ جنرل بوچرڈ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جہاں کہیں بھی ضرورت ہوگی حملہ آور ہیلی کاپٹرز کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔

نیٹو حکام کے مطابق لیبیا کے خلاف جاری فضائی کارروائی کے لیے فرانس کی طرف سے چار ٹائیگر اٹیک ہیلی کاپٹرز مہیا کیے گئے ہیں جبکہ برطانیہ نے اسی مقصد کے لیے چار اپاچی ہیلی کاپٹرز فراہم کیے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس