1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو کے بغیر افغانستان بکھر جائے گا، ملی بینڈ

افغانستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلاء کی صورت میں کابل حکومت کا تختہ الٹنے میں دیر نہیں لگے گی۔

default

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ

ڈیوڈ ملی بینڈ نے برطانوی اخبار 'گارجیئن' سے انٹرویو میں کہا کہ عالمی افواج افغانستان چھوڑتی ہیں تو اس کے بعد وقت مقرر کر لیں، پانچ منٹ، چوبیس گھنٹے یا پھر سات دِن، لیکن عسکریت پسند اس سیکیورٹی فورس پر قابو پا لیں گے، جسے مزاحمت کرنے کے تیار کیا گیا ہے۔

Gordon Brown besucht die britischen Soldaten

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن دورہ افغانستان کے موقع پر

برطانوی وزیر خارجہ نے یہ بیان کابل میں حامد کرزئی کی دوسری مدت صدارت کی تقریب حلف برادری میں شرکت کے بعد دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام دُکھی ہیں کہ انہیں کسی کی ضرورت ہے، لیکن وہ پرجوش بھی ہیں، کیونکہ نیٹو افواج کی غیرموجودگی کی صورت میں ملکی حالات انتہائی بھیانک ہوں گے۔

2001ء سے جاری افغان مشن کے دوران اب تک وہاں دو سو تیس برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی برطانوی عوام کی جانب سے اس جنگ میں اپنے ملک کی شرکت پر مخالفت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے ملی بینڈ نے کہا کہ افغان مشن میں شرکت کی قیمت کچھ زیادہ ضرور ہے لیکن اس جنگ کو بیچ میں چھوڑنے سے بہت کم ہے اور یہ بات اپنے عوام کے سامنے واضح کرنا ہو گی۔

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کہہ چکے ہیں کہ افغانستان جنگ میں ان کے ملک کی شرکت کا مقصد دراصل اپنی سرزمین کا تحفظ ہے۔ رواں ماہ کے آغاز پر انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ مشن ادھورا نہیں چھوڑنا چاہئے بلکہ افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے عمل کو تیز کرنا چاہئے تاکہ وہ بلآخر اپنے ملک کی سلامتی کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لے سکیں۔

ملی بینڈ کہتے ہیں کہ جب تک افغان اپنے معاملات خود نہیں سنبھال لیتے، وہاں مغرب کا کردار جاری رہے گا۔ ان کا کہنا ہے، 'ہم وہاں ایک مقصد، مقررہ عرصے اور ترقی کے لئے موجود ہیں۔ مقصد مشکل لیکن واضح ہے۔'

دوسری جانب امریکی سینیٹر جان میکین نے افغان مشن کی کامیابی کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی

BdT Erstes Treffen nach der Wahl Obama und McCain

سینیٹر جان میکین صدر باراک اوباما کے ساتھ

کہنا ہے کہ اس مقصد کے لئے صدر باراک اوباما کو افغانستان میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ جلد از جلد کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے فوج میں بے یقینی بڑھ رہی ہے جبکہ افغانستان کے حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔

اُدھر امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے افغان صدر کو ناقابلِ اعتبار پارٹز قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں افغانستان مزید امریکی فوجیوں کی روانگی کو سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ امریکی کمانڈر صدر اوباما سے افغان مشن کے لئے اضافی فوجیوں کی درخواست کر چکے ہیں، جس پر وائٹ ہاؤس کا فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔ اِس بارے میں کسی فیصلے کا امکان چھبیس نومبر کے یوم تشکر کی چھٹی کے بعد متوقع ہے۔ افغانستان میں تعینات مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جس میں سے تقریبا چونسٹھ ہزار امریکی ہیں۔ نیٹو کے رکن دیگر ممالک میں سے افغانستان سب سے زیادہ فوجی بھیجنے والے دیگر ممالک برطانیہ اور جرمنی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM