1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو کے اواکس طیارے شام اور عراق کی فضاؤں میں

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے طیاروں نے شام اور عراق میں اپنی نگران پروازیں شروع کر دی ہیں۔ نیٹو کے اس اقدام کا مقصد ان دونوں ممالک میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی خلاف جاری کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے آج منگل پچیس اکتوبر کو اعلان کیا کہ شام اور عراق کی فضائی حدود میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی نگرانی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ اسٹولٹن برگ نے برسلز میں کہا، ’’اس سلسلے میں اواکس طیاروں نےگزشتہ ہفتے یعنی جمعرات بیس اکتوبر کو پہلی مرتبہ پرواز کی تھی اور مزید  طیارے اسی طرح کی دیگر پروازیں بھی کریں گے۔‘‘ تاہم اس موقع پر انہوں نے بہت زیادہ تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کے بقول یہ نگرانی اواکس طیاروں کے ذریعےکی جا رہی ہے اور ایسا آئی ایس یا داعش کے خلاف جاری بین الاقوامی کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا، ’’اس آپریشن کی مدد سے حالات کی ایک بہتر تصویر سامنے آئے گی اور بین الاقوامی اتحاد کی فضائی طاقت کو بہتر معلومات مل سکیں گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح شام اور عراق کے پیچیدہ اور مشکل حالات میں فضائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

NATO Jens Stoltenberg Brüssel

اس آپریشن کی مدد سے حالات کی ایک بہتر تصویر سامنے آئے گی، ژینس اسٹولٹن برگ

اواکس طیارے انتہائی جدید ریڈار اور مواصلاتی نظام سے آراستہ ہوتے ہیں۔ یہ جہاز  ترکی یا بین االاقوامی فضائی حدود میں رہتے ہوئے  فضا سے متنازعہ علاقے کا مشاہدہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

اس فضائی بیڑے میں کل سولہ اواکس طیارے شامل ہیں اور ان کا تقریباً ایک تہائی عملہ جرمن فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے، جو پندرہ سے بیس فوجی بنتے ہیں۔ تاہم وفاقی جرمن فوج فضائی نگرانی کے اس عمل میں فی الحال شریک نہیں ہے۔ اس تناظر میں جرمن پارلیمان نومبر میں ہونے والے اپنے ایک اجلاس میں فیصلہ کرے گی۔ نیٹو آئی ایس کے خلاف  قائم عسکری اتحاد میں باقاعدہ طور پر تو شامل نہیں ہے تاہم جولائی میں وارسا میں ہونے والے اجلاس میں مغربی دفاعی اتحاد نے عراق اور شام میں فضا سے نگرانی کی حامی بھری تھی۔

اس موقع پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے عراقی فوجیوں کو تربیت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ یہ تربیت آج کل پڑوسی ملک اردن میں فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول اگلے دنوں کے دوران اس میں توسیع کرتے ہوئے اسے عراق تک پھیلا دیا جائے گا۔

ملتے جلتے مندرجات