1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی نہیں

مغربی دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے افغانستان کے ایک دورے کے موقع پر کہا ہے کہ جب تک یہ ملک خود اپنی سلامتی کا خیال رکھنے کے قابل نہیں ہوجاتا، تب تک بین الاقوامی برادری اِس کا ساتھ دیتی رہے گی۔

default

امریکی صدر باراک اوباما کے برعکس راسموسن نے افغانستان سے بین الاقوامی دَستوں کے انخلاء کی کسی تاریخ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابھی دسمبر کے اوائل میں امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ مزید تیس ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے۔ امریکی صدر کے اِس اعلان کے بعد اب مغربی دفاعی اتحاد کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن پہلی مرتبہ افغانستان کے دورے پر گئے۔ تاہم جہاں امریکی صدر نے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ جولائی سن دو ہزار گیارہ سے افغانستان سے امریکی دستوں کا انخلاء بھی شروع ہو جائے گا، وہاں نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے افغانستان سے غیر ملکی دستوں کے انخلاء کی کسی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔

منگل کو کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راسموسن نے کہا کہ نیٹو دستے اُس وقت تک افغانستان میں رہیں گے، جب تک افغان خود اپنی طاقت اور ہمت سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے افغانستان سے انخلاء کے اعلان کو یہ کہہ کر ہدفِ تنقید بنایا گیا تھا کہ اِس سے انتہا پسند طالبان کو جنگ کے محاذ پر ڈٹے رہنے کا حوصلہ ملے گا اور وہ ایک بار پھر برسرِ اقتدار آسکتے ہیں۔

اِسی پریس کانفرنس میں افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان کو ایک بار پھر امن مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ طالبان لاکھ مرتبہ امن کی پیشکش ٹھکرائیں گے تو افغان حکومت اتنی ہی بار اپنی اِس پیشکش کا اعادہ کرے گی۔ اعتدال پسند طالبان کے ساتھ بات چیت اِدھر جرمن دارالحکومت برلن کے سیاسی حلقوں میں بھی موضوعِ بحث ہے اور جنوری میں لندن منعقدہ بین الاقوامی افغانستان کانفرنس کے بھی ایجنڈے میں شامل ہو گی۔

Symbolbild Karl Theoder zu Guttenberg Flagge NATO und Afghanistan

جرمن وزیر دفاع گٹن برگ نے گزشتہ روز ایک بیان میں اعتدال پسند طالبان کے ساتھ بات چیت کے عمل کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

تاہم سرکاری ترجمان اُلرِش وِلہیلم کے مطابق: ’’اب تک اِن سابقہ جنگجوؤں کے ساتھ اِس طرح کی بات چیت کے خلاف دلیل کے طور پر ہمیشہ یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ کیا وہ افغان آئین کا احترام کریں گے یا وہ سرے سے افغانستان کے آئین کو تسلیم بھی کرتے ہیں یا نہیں‘‘

حال ہی میں جرمن وزیرِ دفاع کارل تھیوڈور سُو گٹن برگ نے بھی افغانستان میں حالات بہتر بنانے کے لئے طالبان کے ساتھ مکالمت کی وَکالت کی تھی۔

Afghanistan Parlament in Kabul

افغان پارلیمان میں ان دنوں صدر کرزئی کی نامزد کردہ نئی کابینہ پر بحث کی جارہی ہے۔

اُدھر طالبان اُس وقت تک بات چیت کے لئے تیار ہی نہیں ہیں، جب تک غیر ملکی دَستے افغانستان کی سرزمین چھوڑ کر چلے نہیں جاتے۔ غالباً طالبان کے اِسی مطالبے کے جواب میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل راسموسن نے کابل میں کل یہ کہا کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کا ساتھ دے گی اور تب تک اِس ملک کی تعمیرِ نو میں مدد دیتی رہے گی، جب تک یہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو جاتا۔ راسموسن نے کہا کہ اتحادی دستے بھی اُتنی ہی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، جتنی کہ افغانستان کے عوام لیکن اگر اتحادی فوجی دَستے وقت سے پہلے ملک چھوڑ کر چلے گئے تو سب کو اور بھی زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

راسموسن نے آئندہ برس افغانستان میں غیر ملکی دَستوں کی تعداد میں بے انتہا اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اِن دَستوں کا افغانستان مشن اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، ایک ایسا مرحلہ، جو افغان قوم کے لئے مزید سلامتی اور ترقی لے کر آئے گا۔

رپورٹ : امجد علی

ادارت : شادی خان

DW.COM