1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو جمعرات کے روز اس بات کا اعلان کرنے والا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے تربیتی مشن کا دائرہ بڑھاتے ہوئے وہ وہاں تین ہزار کے قریب مزید فوجی بھیجے گا۔ یہ بات اس اتحاد کے حکام کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔

امریکا کی طرف سے افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد مغربی دفاعی اتحاد نیٹو بھی اس ملک میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ بات اس اتحاد کے حکام کے حوالے سے بتائی ہے۔

روئٹرز کے مطابق نیٹو اتحاد کی طرف سے افغانستان بھیجے جانے والے یہ اضافی فوجی جنگی کارروائیوں میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ وہ افغان

وج اور ایئرفورس کے اہلکاروں کی تربیت کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے استعمال ہوں گے۔ اس کا مقصد امریکا کی طرف سے افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی حکمت عملی میں تعاون بڑھانا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اشٹولٹن برگ نے آج منگل سات نومبر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ تاکہ افغانستان میں جاری صورتحال میں بہتری ہو سکے، اور طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ میدان جنگ میں جیت نہیں سکتے۔‘‘

نیٹو اتحاد میں شریک ممالک کے وزرائے دفاع کا دو روزہ اجلاس بدھ آٹھ نومبر سے برسلز میں شروع ہو رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس کے موقع پر وہ افغانستان میں نیٹو فوجیوں کی تعیناتی کی  توثیق کریں گے۔

روئٹرز نے نیٹو کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان فوجیوں کی تعیناتی کا عمل آئندہ برس یعنی 2018ء کے آغاز سے ہو گا۔ نیٹو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی کے بیلی ہوچنسن کا کہنا ہے کہ امریکی ہدف طالبان عسکریت پسندوں کو یہ بتایا ہے کہ وہ فوجی جنگ میں جیت نہیں سکتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان کے حوالے سے نئی حکمت عملی کا اعلان اگست میں کیا گیا تھا۔ اس حکمت عملی کے مطابق افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجنا، افغان فوج کو مزید طاقتور بنانا، بھارت جیسے علاقائی اتحادیوں کی طرف سے تعاون میں اضافہ کرنا اور پاکستان کے خلاف ایک سخت نکتہ نظر اپنایا جانا ہے۔

DW.COM