1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو پر ایک بار پھر لیبیا میں سویلین ہلاکتوں کا الزام

لیبیا کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے جنگی طیاروں نے بریقہ شہر میں بم برسا کر 15 مزید شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے اس دعوے کو مسترد کیا جا رہا ہے۔

default

لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن چینل نے آج نشر کی گئی اپنی رپورٹ میں نیٹو کو ایک بار پھر سامراجی اور صلیبی حملہ آور قرار دیا۔ نیٹو پر بریقہ شہر میں 15 شہریوں کو ہلاک اور 20 سے زائد کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق نیٹو کے جنگی طیاروں نے سویلین مقامات پر بم برسائے جن میں ایک بیکری اور ایک ریستوران شامل ہیں۔ مارے جانے والے تمام افراد کو عام شہری ٹہھرایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا یہ حملہ کس وقت کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ’جانا‘ نے البتہ اپنی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ حملہ ہفتہ کو کیا گیا اور اس میں پانچ عام شہری مارے گئے۔

لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن کی رپورٹ کے جواب میں نیٹو کے ترجمان نے تصدیق کی کہ بریقہ پر حملہ کیا گیا تھا مگر وہاں نشانہ بنائے گئے مقامات جائز عسکری اہداف تھے۔ نیٹو کے مطابق جتنے بھی لوگ مارے گئے وہ ’ملٹری ٹارگٹس‘ تھے۔ معمول کی رپورٹ میں نیٹو فورسز کی جانب سے کہا گیا کہ بریقہ میں مجموعی طور پر 35 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ آئل ریفائنریز کے حوالے سے اہمیت کا حامل شہر بریقہ دارالحکومت طرابلس سے آٹھ سو کلومیٹر مشرق اور باغیوں کے گڑھ بن غازی سے 240 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

NATO Verteidigungsminister Brüssel Belgien Treffen

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن

اس سلسلے میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے نیٹو نے تسلیم کیا تھا کہ ان سے ’مِس فائر‘ ہوا ہے۔ اُس وقت بھی طرابلس حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ نیٹو کی بمباری سے متعدد عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اطالوی وزیر خارجہ فرانکو فراتینی نے اُس واقعے کے ردعمل کے طور پر اس مہم کو معطل کرنے کی بات کی تھی۔ اسے نیٹو کے اندر اختلاف رائے کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اطالوی وزیر نے فائر بندی اور امن مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن کا البتہ مؤقف ہے کہ اگر نیٹو نے کارروائی معطل کی تو مزید شہری مارے جائیں گے۔

امریکی ایوان اقتدار میں بھی لیبیا مشن کے حوالے سے غیر مستحکم رویہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اُس مجوزہ قانون کو مسترد کیا جس کے تحت صدر اوباما کو کرنل قذافی کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے کانگریس کی حمایت مل جاتی۔ کرنل قذافی پر دباؤ بڑھانے کی ایک اور کوشش میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے لیبیا کے ایسے تین فٹ بالرز کے انٹرویو نشر کیے ہیں جنہوں نے باغیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM