1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو ٹینکروں پر عسکریت پسندوں کے حملے، تین افراد ہلاک سولہ زخمی

پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں دو مختلف واقعات میں عسکریت پسندوں نے ایک نیٹو سپلائی ٹینکر کو تباہ کر یا جبکہ دوسرے پر فائرنگ کی۔ ان واقعات میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہو گئے ہیں۔

default

پولیس کے مطابق ایک واقعہ پشاور کے نواح میں خیبر ایجنسی کے قریب پیش آیا، جہاں عسکریت پسندوں نے ہفتے کو رات گئے ایک نیٹو آئل ٹینکر کو ایک ریموٹ کنڑول بم کا نشانہ بنایا۔ بم دھماکے کے نتیجے میں ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا اور قریب واقع 100 دکانیں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔ حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کے عملے نے بعد میں آگ پر قابو پا لیا۔

سینیئر پولیس اہلکار محمد اعجاز خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’یہ بم ایک ٹینکر کے نیچے نصب کیا گیا تھا، جسے اس وقت تباہ کیا گیا، جب ٹینکر قبائلی علاقے میں داخل ہو رہا تھا۔ آئل ٹینکر میں دھماکے کی وجہ سے آس پاس موجود دکانیں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ فائربریگیڈ کے آگ پر قابو پانے تک سو دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ اس واقعے میں دو افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہو گئے۔‘‘

Anschläge auf NATO-Tanklaster in Pakistan

ٹینکر کی تباہی کے باعث آس پاس دوکانوں کو آگ لگ گئی

ایک اور سرکاری اہلکار کے مطابق دوسرے نیٹو سپلائی ٹینکر پر آتشیں ہتھیاروں سے ایک اور حملہ اس پہلے حملے سے کوئی 10 کلومیٹر دور خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں کیا گیا۔ اس حملے میں ٹینکر کا ڈرائیور مارا گیا جبکہ اس کا معاون زخمی ہو گیا۔

ایک پاکستانی خفیہ اہلکار نے AFP کو بتایا کہ دونوں نیٹو سپلائی ٹینکر ایندھن لے کر جا رہے تھے۔ اب تک کسی گروپ کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے، تاہم نیٹو سپلائی ٹرکوں پر حملوں میں عموماً طالبان ہی ملوث ہوتے ہیں۔

افغانستان میں متعین نیٹو افواج کے لیے رسد اور سامان حرب پاکستان کے راستے ہی منتقل کیا جاتا ہے۔ تاہم نیٹو ٹرکوں پر حملے پاکستان میں معمول کی بات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں افواج تک رسد کی فراہمی کے لیے وسطی ایشیا کے روٹ کو استعمال کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ رواں برس کے اختتام تک افغانستان میں غیر ملکی افواج کے لیے ساز و سامان اور رسد کے نصف سے زائد حصے کی فراہمی وسطی ایشیائی روٹ کے ذریعے شروع ہو جائے گی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM