1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو وزرائے دفاع کا اجلاس دوسرے روز بھی جاری

برسلز میں اپنے دو روزہ اجلاس کے آخری روز نیٹو کے وزرائے دفاع آج جمعرات کو افغانستان سے اپنے فوجی دستوں کے منظم انخلاء سے متعلق مشورے کر رہے ہیں۔

default

نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن

مغربی دفاعی اتحاد سن 2014 کے آخر تک افغانستان میں اپنا جنگی مشن ختم کر دینا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ اسی اجلاس میں اس لیبیا مشن سے متعلق بھی مشاورت کی جا رہی ہے، جسے نیٹو اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیتا ہے لیکن جو ابھی تک باقاعدہ طور پر ختم نہیں ہوا۔

نیٹو وزرائے دفاع کا کئی سالوں سے کوئی اجلاس ایسا نہیں ہوتا، جس کے باقاعدہ ایجنڈے میں افغانستان کا موضوع شامل نہ ہو۔ لیکن اس بار یہ اجلاس ان وزراء کی پچھلی سبھی ملاقاتوں سے بہت مختلف ہے۔ طالبان دور کے افغانستان پر نیٹو کے عسکری حملے کے آغاز کے دس سال بعد آج مرکزی موضوع یہ ہے کہ اس اتحاد میں شامل ملکوں کو ہندو کش کے علاقے سے اپنے فوجی دستے واپس بلانا ہیں اور تب تک افغانستان میں سلامتی کی ذمہ داریاں مقامی سکیورٹی دستوں کو سنبھالنا ہیں۔

اب تک نیٹو میں اس مشن سے متعلق تھکاوٹ کا احساس بھی بہت واضح ہو چکا ہے۔ مغربی دفاعی تنظیم یہ نہیں چاہتی کہ افغانستان سے اس کے دستوں کا انخلاء بہت جلدی میں عمل میں آئے۔ خاص طور پر امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا تو ایسا بالکل نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا ہے، ’’امریکہ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ انخلاء کے عمل کے دوران ایسے فوجی دستوں کو واپس نہ بلایا جائے، جن پر اس کے اتحادی انحصار کرتے ہیں۔‘‘

ایسے دستوں سے مراد ہیلی کاپٹروں کا فوجی عملہ، اسپیشل یونٹس اور بم ڈسپوزل کے فوجی ماہرین شامل ہیں، جو آئندہ افغانستان ہی میں رہیں گے۔ اس بارے میں وفاقی جرمن وزیر دفاع دے میزیئر کا کہنا ہے، ’’یہ ہمارے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ جنگی دستے واپس بلائے تو جائیں گے لیکن وہ ممالک، جن کے فوجی شمالی افغانستان میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں جرمنی، ناروے، فن لینڈ، بالٹک کی ریاستیں، ترکی اور منگولیا بھی شامل ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے اس کا مطلب کیا ہو گا۔‘‘

NATO Verteidigungsminister Brüssel Belgien Treffen

شمالی افغانستان میں فرائض کی انجام دہی کے لیے جن ملکوں نے وہاں وفاقی جرمن فوج کے زیر کمان علاقے میں اپنےدستے بھیجے ہیں، ان کی تعداد 17 بنتی ہے۔ جرمن وزیر دفاع کی دعوت پر ان ملکوں کے وزرائے دفاع بھی آپس میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بارے میں جرمن وزیر نے کہا، ’’مقصد یہ ہے کہ ہم ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔‘‘

جرمن وزیر دفاع کے مطابق افغانستان میں نیٹو کے رکن ملک اتحادیوں کے طور پر ایک دوسرے پر بہت انحصار کرتے ہیں۔ ان کے فوجی کیمپ بھی مشترک ہیں اور وہ مل کر تعمیر نو کے کئی منصوبوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ اسی لیے اگر ان ملکوں میں سے کسی ایک کے فوجی وہاں سے واپس بلا لیے جاتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر وہاں دوسرے ملکوں کے فوجیوں پر بھی پڑے گا۔

اب تک صرف یہ بات واضح ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنے فوجی دستے کس رفتار سے واپس بلائے گا۔ اس سال کے آخر تک 10 ہزار اور اگلے سال ستمبر کے آخر تک مزید 23 ہزار۔ نیٹو کی رائے میں افغانستان کی صورت حال ایسی ہے کہ وہاں سے غیر ملکی فوجی دستوں کا انخلاء غلط فیصلہ نہیں ہو گا۔ اس سال جولائی اور اگست میں وہاں عسکریت پسندوں کے خونریز حملوں میں پہلی مرتبہ کمی ہوئی ہے۔

برلن حکومت افغانستان سے وفاقی جرمن فوجی دستوں کے انخلاء کے منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز اگلے سال کے شروع سے کرنا چاہتی ہے لیکن ابھی تک اس نے اس بارے میں اپنے منصوبوں کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

رپورٹ: کرسٹوف پروئسل، برسلز / مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM