1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو فورسز کے لئے سامان کی ترسیل ، سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج

پاکستانی صوبہ سرحد کی حکومت نے پشاورمیں نیٹوفورسز کے لئے سامان سپلائی کرنے والے ٹرکوں کے ٹرمینلز کی حفاظت سخت کرتے ہوئے 9کلومیٹر طویل رنگ روڈ پر پولیس کے ساتھ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دستے بھی تعینات کر دئیے ہیں۔

default

نیٹو فورسز کے لئے ترسیل کا محفوظ راستہ مقامی انتظامیہ کے لئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے

دوسری جانب خیبر ایجنسی کے تحصیل لنڈی کوتل کے متعدد علاقوں میں کرفیو لگا کرنیٹوفورسز کے ٹرکوں کونقصان پہنچانے اوراغواء برائے تاوان میں ملوث گروپوں سمیت عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ حالیہ حملوں میں تین سیکورٹی اہلکاربھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کئی ٹرکوں کو بھی تباہ کیا گیا۔

افغانستان میں مقیم اتحادی ممالک کی افواج کے لئے اشیاء ضرورت کی ترسیل کے لئے پاک افغان شاہراہ طورخم سب سے آسان راستہ ہے تاہم گزشتہ دو ماہ سے نیٹو فورسز کے پشاورمیں واقع لاجسٹک ڈپوؤں کومیزائل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوماہ کے قلیل عرصہ کے دوران نیٹوفورسز کے سامان سے بھرے ساڑھے تین سو سے زیادہ ٹرک اورکنٹینرز تباہ کئے گئے ہیں۔ جس میں کروڑں ڈالرز مالیت کاسامان بھی خاکستر ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق نیٹو فورسز کے سامان کی حفاطت کیلئے فی ٹرک 475 ڈالرزادا کئے جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود حکومت اس سامان کوتحفظ فراہم کرنے میں اب تک ناکام رہی جس کی وجہ سے امریکہ اوراتحادی ممالک افغانستان میں موجود افواج کے لئے سامان کی سپلائی کیلئے متبادل روٹ کی تلاش میں ہیں۔ نیٹو افواج کے لئے سامان سے بھر ے ٹرک پشاورسے ہوتے ہوئے خیبرایجنسی کے راستے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں جبکہ بعض سیکورٹی کی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آورقریبی قبائلی پٹی سے آتے ہیں جس پر خیبرایجنسی کے پولیٹکل حکام نے شرپسندوں کے خلاف آپریشن کاسلسلہ تحصیل لنڈی کوتل کے بعض علاقوں تک بڑھا دیا ہے۔ خیبرایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ طارق حیات کا کہنا ہے :’’ انہوںنے قبائلی عمائدین کو اجتماعی ذمہ داری کے تحت ان حملوں میں ملوث افراد کوانتظامیہ کے حوالے کرنے کے لئے وقت دیا تھا۔ تاہم اس میں ناکامی کے بعد آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک طورخم شاہراہ نیٹو فورسز کی سامان سمیت عام لوگوں کی آمدورفت کے لئے محفوظ نہیں بنایاجاتا آپریشن جاری رہے گا ‘‘۔

Anschlag in Pakistan

گزشتہ کچھ عرصے میں کئی سو ٹرک تباہ کر دئے گئے

دوسری جانب پشاورپولیس نے شہر میں سیکورٹی انتظامات سخت کرتے ہوئے خیبرایجنسی سے آنے والی تمام گاڑیوں کی نگرانی شروع کردی ہے سرحد پرتعینات پولیس کے سیکورٹی آفیسرواحد خان کہتے ہیں: ’’ پشاورمیں داخل ہونے والی ہرگاڑی کی تلاشی لی جاتی ہے جبکہ مشکوک افراد کو پوچھ گچھ کے لئے روکا جاتا ہے۔ امریکی حکومت نے سرحد پولیس کوان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مزید سامان فراہم کردیا ہے۔ جن میں تین ہزار بلٹ پروف جیکٹس، تین ہزارہیلمٹ 34 ٹرک اوردیگر سامان فراہم کیا گیا ہے یہ سامان پشاورمیں تعینات امریکی قونصلرلین ٹریسی نے وزیراعلیٰ سرحد کے حوالے کیا ہے جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جیمرز اور دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنانے کے لئے مزید آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔