1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو فوج کا انخلا، ’افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی کا سبب‘

افغانستان کے سابق وزیرداخلہ محمد حنیف اتمر نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے مجوزہ منصوبے کے مطابق افغانستان سے سن 2014 تک اپنی فوجیں نکال لیں، تو افغانستان مکمل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔

default

اتمر نے یہ بیان واشنگٹن میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں اگلے کچھ برسوں میں سلامتی کی صورتحال میں پیش رفت ہو بھی جائے، تب بھی وہاں کسی خانہ جنگی سے بچاؤ کے لیے 20 سے 30 ہزار غیر ملکی فوجی درکار ہوں گے۔ اتمر نے کہا کہ اسی طریقے سے افغانستان میں اب تک کی جانے والی تعمیر نو کی سرگرمیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں سینٹر برائے اسٹریٹیجک اور بین الاقوامی مطالعہ نامی ایک تھنک ٹینک کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں سابق افغان وزیر داخلہ نے افغانستان میں ملکی اور غیر ملکی فوجیوں کی مجموعی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’ساڑھے چار لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں بھی ہم مسائل کا شکار ہیں۔ ہلمند اور قندھار میں صورتحال میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ملک کے مشرق اور جنوب مشرق میں حالات ابھی دگرگوں ہیں۔ ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ مزید کچھ برس گزرنے کے بعد صرف افغان اہلکار سکیورٹی مسائل سے تن تنہا نمٹ سکیں گے۔‘

محمد حنیف اتمر سن 2008 تا 2010ء افغانستان میں وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن 2014ء تک افغانستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کا سوچنا درست عمل نہیں ہو گا۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایسی صورتحال میں افغان حکومت کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔

Afghanistan Anschlag Selbstmordattentat Flash-Galerie

’ساڑھے چار لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں بھی ہم مسائل کا شکار ہیں۔‘

’’حکومت کیسے گرے گی؟ جواب ہے اگر غیرملکی فوجیوں کا جلد انخلاء ہوا۔ اگر افغانستان کی معاشی امداد میں کمی ہوئی اور اگر وہاں ایک خلاء پیدا ہوا، جسے بھرنے کے لیے مقامی قوتیں سرگرم ہو گئیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تمام چیزیں وقوع پذیر ہوئیں، تو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی وجہ سے یہ صورتحال علاقائی جنگی کھیل میں تبدیل ہو جائے گی ، اپنے فائدے کے لیے یہ قوتیں افغانستان کی توڑ پھوڑ میں مصروف ہو جائیں گی اور افغانستان مکمل خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔

انہوں نے تنبیہ کی کہ ان حالات میں افغانستان ماضی کی طرح دوبارہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ایک مضبوط اور محفوظ ٹھکانے میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں وزیر داخلہ سے قبل وزیر تعلیم کے منصب پر فائز رہنے والے اتمر نے کہا کہ افغانستان میں ’سلامتی کی صورتحال میں خلاء‘ جیسی حالت میں مقامی پولیس اور فوج کی وفاداری ریاست کی بجائے جنگی سرداروں کی طرف جھک سکتی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو ممالک کے ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی تعینات ہیں اور مجوزہ منصوبے کے تحت ان فوجیوں کا انخلاء سن 2014ء تک مکمل ہونا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: حماد کیانی

DW.COM