1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو فضائی حملے میں چار افغان پولیس اہلکار ہلاک

مشرقی افغانستان میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب غیر ملکی فوجی دستوں کے ایک فضائی حملے میں چار مقامی پولیس اہلکار مارے گئے۔ یہ بات مشرقی افغانستان میں پیر کے ورز ایک صوبائی گورنر نے بتائی۔

default

بدامنی کے شکار مشرقی افغان صوبے نورستان کے گورنر جمال الدین بدر نے بتایا کہ اس واقعے میں ایک پولیس چوکی کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا اور یہ حملہ غلط انٹیلیجنس رپورٹوں کا نتیجہ تھا۔

جلال آباد سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی بین الاقوامی حفاظتی فوج آئی سیف کے ایک ترجمان نے کابل میں بتایا کہ انٹر نیشنل سکیورٹی فورس اس بارے میں کسی قسم کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکتی تاہم میڈیا رپورٹیں منظر عام پر آنے کے بعد اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نورستان کے گورنر جلال الدین بدر کے بقول اس صوبے کے ضلع واما میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے بعد غیر ملکی فوجی دستوں نے وہا‌ں موجود پولیس افسران کو اپنی حراست میں بھی لے لیا۔

Afghanistan ISAF Soldaten aus Kanada im Provinz Kandahar

قندھار میں فرائض انجام دینے والے آئی سیف دستوں کے دو سپاہی

گورنر بدر نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’نیٹو فوجی دستوں کے ہیلی کاپٹروں نے ہماری پولیس پوسٹ پر بمباری کی۔ اس دوران چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے اور دو زخمی۔ اس حملے کے بعد وہاں موجود باقی ماندہ بارہ پولیس اہلکاروں کو اتحادی فوجی گرفتار کر کے کابل کے نزدیک بگرام کے بین الاقوامی فوجی اڈے پر لے گئے۔‘‘

نورستان کے گورنر نے اس بارے میں حیرانی کا اظہار کیا کہ اتحادی دستوں کو اس چیک پوسٹ کے بارے میں غلط انٹیلیجنس اطلاعات کس نے پہنچائی ہوں گی کیونکہ ’تمام پولیس افسران سرکاری یونیفارم میں تھے اور جس وقت اس چوکی پر فضائی حملہ کیا گیا، وہاں افغانستان کا قومی پرچم لہرا رہا تھا۔‘‘

بعد ازاں آئی سیف کے ایک ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی حفاظتی فوج نورستان میں افغان حکام کے ان بیانات سے آگاہ ہے جن میں ’فرینڈلی فائر‘ کا ذکر کیا گیا ہے تاہم آئی سیف کی طرف سے اس بارے میں چھان بین جاری ہے۔

افغانستان میں ملکی اور غیر ملکی فوجی دستے طالبان کی دس سالہ بغاوت پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور وہاں ’فرینڈلی فائر‘ میں انسانی ہلاکتوں کے واقعات کی شرح بھی مقابلتاﹰ زیادہ ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM