1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو سپلائی کی بندش کا گیارہواں دن

پاکستان کے ذریعے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو سامان رسد کی ترسیل کی بندش بدھ کو گیارہویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔

default

اس وقت بھی قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور بلوچستان کے ضلع چمن میں ہزاروں کنٹینرز اور آئل ٹینکرز سامان رسد اور تیل سے لدے ہوئے پاکستانی علاقے میں کھڑے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرحد بند کرنے کے بعد سے امریکی فوجی حکام  دیگر ممالک کے سمندری راستوں کے ذریعے انتہائی کم مقدار میں جنگی رسد افغانستان پہنچا رہے ہیں۔ اے پی کے مطابق امریکی فوجی حکام نے ان ممالک کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان سرکاری سطح پر تین مرتبہ مختلف واقعات کے بعد عارضی طور پر نیٹو کی سپلائی لائن بند کر چکا ہے۔ 2010ء میں بھی پاکستان نے اپنی ایک سرحدی چوکی پر نیٹو حملے کے نتیجے میں2 فوجیوں کی ہلاکت پر 10 دن کے لیے نیٹو کی سپلائی لائن منقطع کی تھی۔ تاہم اس مرتبہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پابندی پہلے سے طویل ہو گی۔

Nach der Schließung zweier Grenzübergänge zwischen Pakistan und Afghanistan

پاکستان میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور مذہبی گروپ نیٹو کی سپلائی لائن منقطع رکھنے کے لیے حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں

اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک سٹڈیز کی ڈائریکٹر برائے افغانستان اور وسط ایشیاء سمبل خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج کی جنگی ضروریات کا 50 فیصد پاکستان جبکہ 50 فیصد دیگر ممالک سے جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان نے جو نیٹو کو راہداری مہیا کر رکھی ہے اس کے ذریعے تمام مہلک رسد جس میں ہتھیار اور گولہ بارود شامل ہیں وہ جنگ کے لیے جاتا ہے۔ ابھی تک روس ، وسط ایشیائی ریاستوں اور شمال میں جو دوسرے ممالک ہیں، انہوں نے نیٹو کو ابھی تک مہلک رسد لے جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ناردرن روٹ سے زیادہ تر غیر فوجی رسد آتی ہے تو آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے نیٹو سپلائی روٹ کی کیا دفاعی اہمیت ہے اور اگر یہ راستہ بند ہو جاتا ہے تو اس کا مستقبل میں جنگ پر کیا اثر ہو سکتا ہے‘‘۔

ادھر پاکستان میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور مذہبی گروپ نیٹو کی سپلائی لائن منقطع رکھنے کے لیے حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی جماعت اسلامی اور تحریک انصاف جیسی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف بطور احتجاج نیٹو کی سپلائی لائن منقطع کرنے کا مطالبہ کرتی چلی آئی ہے تاہم بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اس کے دیگر اتحادیوں اور پاکستان کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی اور افغانستان میں امن قائم کرنا ہے تو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ہو گا۔

Pakistan NATO-Angriff November 2011 Afghanistan

پاکستان نے 26 نومبرکو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے میں اپنے 24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد نیٹو کو رسد کی فراہمی منقطع کر دی تھی

دفاعی تجزیہ نگار ایئر مارشل (ر) مسعود احمد نے بتایا، ’’یہ ان کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ علامتی طور پر بھی ان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ان کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے وہ (امریکہ) بھی چاہے گا کہ ہم کسی طرح کے تعاون پر تیار ہو جائیں اور ہمیں بھی کرنا پڑے گا بھلے نقصان ہے یا نہیں ہے تو جو کل وزیراعظم نے کہا وہ خوش آئند ہے کہ ہم بات چیت کے ذریعے کہیں نہ کہیں پہنچیں گے کیونکہ ہماری کمزوریاں اپنی جگہ پر ہیں۔ امریکہ کو بھی بالکل اندازہ ہے کہ ہماری حمایت اور تعاون کے بغیر یہ جنگ جیتنا تو درکنار یہ جنگ لڑی بھی نہیں جا سکتی‘‘۔

خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کے نشیب و فراز کو دیکھتے ہوئے افغانستان میں اپنی افواج کو رسد کی فراہمی کے لیے ہر ممکن ذریعہ تلاش کر چکا ہے تاہم سب سے سہل اور کم خرچ راستہ پاکستان ہی ہے۔ سمبل خان کے مطابق نیٹو افواج کے سامان رسد کے لیے حکومت پاکستان کا کیا معاہدہ ہے؟ اسے سامنے لانا چاہیے تا کہ درست طور پر یہ معلوم ہو سکے کہ پاکستان کو ان خدمات کے عوض معاشی طور پر کتنا فائدہ ہوا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت:  عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس