1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو سپلائی روٹ کی بحالی چند دنوں میں، حسین حقانی

افغانستان متعینہ نیٹو دستوں کے لیے پاکستان کے راستے رسد کی فراہمی کے تین روز قبل معطل ہو جانے والا سلسلہ جلد بحال ہو جائے گا۔ یہ بات امریکہ میں پاکستانی سفیر نے اتوار کو کہی۔

default

افغان سرحد کے قریب نیٹو کے مال بردار ٹرک اور پاکستانی گارڈز

افغانستان متعینہ نیٹو دستوں کے لئے پاکستان کے راستے رسد کی فراہمی کا تین روز قبل معطل ہو جانے والا سلسلہ مقابلتاﹰ جلد ہی بحال ہو جائے گا۔ یہ بات امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اتوار کو کہی۔

پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکی ٹیلی وژن ادارے CNN کے ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ نیٹو دستوں کے لئے پاکستان کے راستے سپلائی لائن چند دنوں میں بحال ہو جائے گی۔ پاکستان نے نیٹو کے امدادی قافلوں کو اپنے ہاں سے سرحد پار کر کے افغانستان جانے سے جمعرات کے دن سے روک رکھا ہے۔

اس وقت طورخم کی پاک افغان سرحد پر ایسے امدادی قافلوں کی لمبی لمبی قطاریں سرحد پار کرنے کی اجازت ملنے کے انتظار میں ہیں۔ پاکستان نے اپنے ہاں سے نیٹو دستوں کے لئے سامان رسد کی فراہمی کا سلسلہ جمعرات کو اس وجہ سے معطل کر دیا تھا کہ افغان علاقے سے پاکستان کی فضائی حدود میں آ کر نیٹو کے جنگی ہیلی کاپٹر کم ازکم چار مرتبہ فضائی حملوں کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک واقعے میں تو تین پاکستانی فوجی ہلاک بھی ہوگئے تھے۔

افغانستان میں نیٹو فوجیوں کے لئے رسد کی فراہمی کا مرکزی راستہ پاکستان ہی ہے۔ افغانستان میں ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد امریکی اور نیٹو فوجی طالبان کے خلاف مسلح کاروائیوں میں مصروف ہیں۔

Flash-Galerie Wahl in Großbritannien Afghanistan Einsatz

افغانستان متعینہ اتحادی دستوں کو رسد کی فراہمی زیادہ تر پاکستان کے راستے پوتی ہے

CNN کے پروگرام ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ میں حصہ لیتے ہوئے حسین حقانی نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو دستوں کے امریکی کمانڈر جنرل پیٹریاس اس معاملے کی تفصیلات کا ذاتی طور پر تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حسین حقانی کے بقول جنرل پیٹریاس نے ہفتے کی رات انہیں کابل سے ٹیلی فون بھی کیا تھا اور یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ نیٹو کے پاکستان کے راستے افغانستان جانے والے ٹرکوں اور ٹینکروں سے متعلق معاملہ جلد حل کر لیا جائے گا۔

اس موقع پر حسین حقانی نے یہ بھی کہا کہ نیٹو ہیلی کاپڑوں کی کارروائیوں سے مستقبل میں پاک امریکی تعاون اور تعلقات کو کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے اور امریکہ پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔

دریں اثناء پاکستان اپنی ایک دو رکنی ٹیم اس مقصد کے لئے افغانستان بھیج چکا ہے کہ وہ اتحادی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سرحد پار سے کئے جانے والے فضائی حملوں سے متعلق نیٹو حکام کی طرف سے کی جانے والی چھان بین میں شامل ہو سکے۔ اس دو رکنی ٹیم کی قیادت بریگیڈیئر عثمان خٹک کر رہے ہیں، جو فرنٹیئر کور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس