1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو روس تعلقات کا نیا دور شروع ہوگا: راسموسن

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان جوہری تخفیف اسحلہ کا معاہدہ طے پا جانے سے مغرب اورماسکو کے درمیان تعلقات پر انتہائی مثبت اثرات پڑیں گے۔

default

امریکہ اور روس کے درمیان جوہری تخفیف اسلحہ کا نیا معاہدہ سٹارٹ طے پا گیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر دیمتری میدیویدف کے درمیان گفتگو میں اس معاہدے پر اتفاق ظاہر کیا گیا۔ اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط اگلے ماہ مشرقی یورپی ملک چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں کئے جائیں گے۔

برسلز میں بین الاوقیانوسی پالیسی سازوں سے اپنے ایک خطاب میں آندرس فوگ راسموسن نے کہا کہ یورپی سلامتی اور موسکو کے حوالے سے اب ایک نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ راسموسن کے مطابق اس موقع پر یورپ کو امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری کے موقع پر اپنا بہترین کردار ادا کرنا چاہئے۔ راسموسن نے کہا کہ نیٹو اور ماسکو کو ایک مشترکہ میزائل شکن نظام کے لئے کام کرنا چاہئے۔

APEC Obama und Medvedev Flash-Galerie

گزشتہ برس دونوں صدور نے ملاقات کے بعد نئے معاہدے پر رضامندی ظاہر کی تھی

راسموسن کے مطابق ایران سمیت دنیا کے کئی ممالک جوہری ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کی صلاحیت کے حامل میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہیں اور ایسی صورت میں سلامتی کی ضروریات کے پیش نظر ماسکو اور نیٹو کو مل کر آگے بڑھنا چاہئے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل راسموسن نے کہا کہ اس معاہدے سے نہ صرف ایک پرامن دنیا سامنے آئے گی بلکہ اتحادی ممالک اور ماسکو کے درمیان تعلقات کا بھی ایک نیا دور شروع ہوگا۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد 1991ء میں امریکہ اور روس کے درمیان سٹارٹ ون معاہدہ طے پایا تھا۔ گزشتہ برس دسمبر میں اس معاہدے کی مدت ختم ہوگئی تھی اور گزشتہ برس اپریل سے ہی دونوں ممالک ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ مبصرین کے مطابق اس معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مشرقی یورپ میں امریکہ کے میزائل شکن نظام کی تنصیب کا منصوبہ تھا، جس پر ماسکو کو شدید تحفظات تھے۔ تاہم اب نیٹو کی جانب سے ایک میزائل شکن نظام میں ماسکو کو شمولیت کی دعوت دینا عالمی پالیسیوں میں نئی تبدیلیوں کا عندیہ دے رہا ہے۔

USA Russland Abrüstung Barack Obama Pressekonferenz

امریکی صدر نے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے

دنیا بھر میں امریکہ اور روس کے درمیان طے پانے والے اس تاریخی معاہدے پر مثبت ردعمل دیکھا جارہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اوباما حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

جمعے کے روز امریکہ صدرباراک اوباما نے اپنے ایک بیان میں سٹارٹ معاہدے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کی کوششوں میں بینادی حیثیت کا حامل قرار دیا۔ باراک اوباما نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری پیدا ہوگی۔ ماسکو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی اس معاہدے کو تاریخ ساز قرار دیا گیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور کے اس معاہدے پر متفق ہوجانے کے بعد سٹریٹیجک تعلقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

یونین آف کنسرنڈ سائنٹسٹس نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ جوہری ہتھیاروں پر تشویش رکھنے والی اس تنظیم کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے تمام دینا کے لئے ایک واضح پیغام پہنچے گا۔ سائنسدانوں کی اس تنظیم کے مطابق اب یہ بات واضح ہےکہ امریکہ اور روس جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عابد حسین

DW.COM