1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو دستوں کے لئے پاکستان کے راستے رسد تاحال بند

افغانستان میں نیٹو دستوں کے لئے پاکستان کے راستے امدادی سامان کی فراہمی ہفتہ کو مسلسل تیسرے روز بھی معطل رہی۔ اس دوران پاک افغان سرحد کے قریب بےشمار ٹرک اور ٹینکر طویل قطاروں میں سرحد کھلنے کا انتظار کرتے دیکھے گئے۔

default

سرحد پار کرنے کے منتظر نیٹو کے مال بردار ٹرک

پاکستانی حکومت نے مغربی دفاعی تنظیم نیٹو کے افغانستان متعینہ فوجیوں کے لئے تیل، اشیائے خوراک اور دوسرا سامان لے کر جانے والے قافلوں کو سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت عارضی طور پر جمعرات کے روز منسوخ کر دی تھی۔

اس کا سبب مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے جنگی ہیلی کاپٹر وں کی طرف سے افغانستان سے آ کر پاکستان کی حدود میں کئے جانے والے وہ فضائی حملے بنے تھے، جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ تین پاکستانی فوجی مارے بھی گئے تھے۔

پشاور سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق خیبر ایجنسی میں مرکزی پاک افغان سرحدی گذرگاہ پر متعین ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے AFPکو بتایا کہ طورخم کا بارڈر نیٹو سپلائی قافلوں کے لئے بند ہے اور اس صورتحال میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

Pakistan Anschlag auf NATO Konvoi

پاکستان میں عسکریت پسند نیتو امدادی قافلوں پر حملے بھی کرتے رہتے ہیں

پشاور میں ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ نیٹو فوجیوں کے لئے سامان رسد لے جانے والے قافلوں کے زیر استعمال راستہ آج مسلسل تیسرے روز بھی بند ہے۔ تاہم صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اس سکیورٹی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔

طورخم کی پاک افغان سرحد سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق طورخم اور اس کے نواحی علاقوں میں نیٹو کے امدادی سامان والے ٹرکوں اور آئل ٹینکروں کی بہت طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جن کے ڈرائیور سرحد پار کرنے کی دوبارہ اجازت کے انتظار میں ہیں۔

گزشتہ جمعرات کے روز نیٹو ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی فضائی حدود کی جو خلاف ورزی کی تھی، وہ اپنی نوعیت کا مجموعی طور پر چوتھا واقعہ تھا۔ اس واقعے کے بعد نیٹو نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’کئی مسلح افراد کی ہلاکت‘ کا باعث بننے والی ان جنگی ہیلی کاپٹروں سے کی گئی کاروائی ذاتی دفاع میں کی گئی تھی۔ نیٹو حکام نے اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ان ہیلی کاپٹروں کے عملے کو یقین تھا کہ ان پر زمین سے فائرنگ کی گئی تھی۔

اس تنازعے کے باعث دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کے بہت اہم اتحادی ملک پاکستان اور امریکہ کے مابین کافی کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔ اسی دوران مبینہ امریکی ڈرون طیاروں سے کئے جانے والے حملوں میں بھی، جن کا ہدف زیادہ تر پاکستانی قبائلی علاقے ہوتے ہیں، کافی تیزی آ چکی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس