1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو حکام سے ملنے والا طالبان لیڈر جعلی نکلا

معتبر امریکی روز نامے ’دی نیو یارک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں میں جو شخص نیٹو حکام سے بطور طالبان لیڈر خفیہ بات چیت کے عمل میں مصروف تھا، حقیقت میں اس کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

default

ایک طالبان لیڈر میڈیا سے بات کرتے ہوئے

امریکی اخبار کے مطابق ملا اختر محمد منصور کی حیثیت سے جو شخص طالبان لیڈر بن کر افغان صدر اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے نمائندوں سے تین ملاقاتوں میں خفیہ بات چیت کے عمل کو جاری رکھے ہوئے تھا، وہ ایک جعلی طالبان لیڈر تھا۔ امریکی حکام نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اس شخص کے ساتھ مذاکراتی عمل ختم کر دیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اِس جعلی لیڈر نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ بھی ملاقات کی تھی تاہم کرزئی نے اس شخص کے ساتھ ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

ملا اختر محمد منصور نامی شخص سے بات چیت کے عمل کی باضابطہ پہلی بار رپورٹنگ ’دی نیو یارک ٹائمز‘ ہی نے بیس اکتوبر کو شائع کی تھی۔ تب اخبار نے شائع کیا تھا کہ طالبان کمانڈروں کے ساتھ براہ راست بات چیت کا عمل زور شور سے شروع کر دیا گیا ہے۔

اس جعلی شخص کے ساتھ رابطے کے بعد امریکہ اور یورپی ملکوں میں اس

Karsai und Holbrooke

حامد کرزئی اور رچرڈ ہالبروک: فائل فوٹو

بات چیت کو مزید استحکام دینے کی شدید خواہش بھڑک اٹھی تھی۔ اس بات چیت کا اہتمام نیٹو کے توسط سے جاری تھا۔ یہ عندیہ بھی دیا گیا تھا کہ فریقین کے درمیان ایسے رابطے گزشتہ دو برسوں سے اُستوار چلے آ رہے ہیں۔ اس جعلی لیڈر سے ملاقات کرنے والوں میں افغانستان میں غالباً نیٹو اتحاد کے سویلین نمائندے مارک سیڈوِل (Mark Sadwill) بھی شامل ہیں۔

بعد میں امریکی اور نیٹو حکام کے علاوہ افغان حکومتی ذرائع نے واضح کیا تھا کہ بات چیت کا جو عمل جاری تھا، وہ انتہائی ابتدائی نوعیت کا تھا۔ اس ابتدائی نوعیت کی بات چیت کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے لئے خصوصی امریکی مندوب رچرڈ ہالبروک نے بھی ایک بیان جاری کیا تھا۔ مسلمان انتہا پسندوں کو مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کے لئے مقرر کردہ افغان وزیر محمد معصوم سٹینک زئی نے بھی اس بات چیت کو ایک نیٹ ورک استوار کرنے سے تعبیر کیا تھا۔ اس کی بھی تردید کی گئی ہے کہ خود ساختہ طالبان کمانڈر ملا اختر محمد منصور کو کابل سے پاکستان تک جانے کی بھی خصوصی اجازت دی گئی تھی۔

گزشتہ دنوں عیدالاضحیٰ کے موقع پر انتہا پسند طالبان کے اہم ترین لیڈر ملا عمر کے بیان میں مغربی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کے تمام عمل کی خبروں کو من گھڑت اور گمراہ کن افواہوں سے تعبیر کیا گیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس