1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو اور روس کی کونسل کی اہم ملاقات

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور روس نے بحیرہ بالٹک میں کشیدگی اور مشرقی یوکرائن میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ اطراف کے مابین دو برس بعد اپنی نوعیت کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

Nato-Generalsekretär Jens Stoltenberg

نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ نیٹو مذاکراتی عمل سے خوفزدہ نہیں ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور روس کے اعلیٰ سفارت کار ایک اہم ملاقات میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور بالخصوص بحیرہ بالٹک اور مشرقی یوکرائن میں جاری تناؤ کو ختم کرنے کی کوشش میں ہیں۔

مشرقی یوکرائن کے تنازعے کے نتیجے میں مغربی ممالک کی طرف سے روس کے ساتھ سیاسی رابطے ختم کیے جانے کے بعد نیٹو اور روس پر مشتمل کونسل کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

سن 2014 میں روس نے یوکرائنی علاقے کریمیا کو اپنا حصہ بنا لیا تھا، جس کے بعد مغربی ممالک نے روس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مغرب اور روس کے مابین کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا تھا جب مشرقی یوکرائن میں روس نے علیحدگی پسند باغیوں کی معاونت شروع کر دی تھی۔

نیٹو کے پریس آفس نے تصدیق کی ہے کہ اس اٹھائیس رکنی عسکری اتحاد کے سفارتکار برسلز میں روسی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔

نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ نیٹو مذاکراتی عمل سے خوفزدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مذاکراتی دور میں مشرقی یوکرائن کا تنازعہ زیر بحث لانے کے علاوہ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت بھی شامل ہے۔

علاوہ ازیں نیٹو اور روس اپنے عسکری روابط میں بہتری لانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

NATO Luftwaffe

روس کا الزام ہے کہ نیٹو نے مشرقی یورپ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا کر کشیدگی پیدا کی ہے

اشٹولٹن برگ کے مطابق، ’’میرے خیال میں ایسے وقت میں مذاکرات زیادہ اہم ہو جاتے ہیں، جب تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘

روس کا الزام ہے کہ نیٹو نے مشرقی یورپ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا کر کشیدگی پیدا کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نیٹو پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پیدا کرنے کا باعث بنا ہے۔