1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو افواج کے پاکستانی حدود میں حملے

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ایک ترجمان نے بتا یا ہے کہ ہفتے کو افغانستان میں موجود نیٹو ہیلی کاپٹرز نے پاکستان کے شمالی علاقے میں انتہا پسندوں کے اڈوں پر دوحملےکئے۔

default

اطلاعات کے مطابق انتہاپسندوں نے خوست کے قریب ایک افغان سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔ پاک افغان سرحد کے قریب واقع ایک چوکی کو حملے کا نشانہ بنایا۔ جوابی کارروائی کرتے ہوئے نیٹو افواج کے دو اپاچی ہیلی کاپٹروں نے افغانستان سے ان عسکریت پسندوں کا پیچھا کیا اور ان پر دو حملے کئے، جس سے تقریباﹰ 50 انتہاپسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

Afghanistan Angriff Friedens-Dschirga Kabul Taliban Karzai

افغان صدر حامد کرزائی

امریکی افواج کے کپتان رائن ڈونلڈ کے مطابق اتحادی فوج کی طرف سے پہلا حملہ اس وقت ہوا، جب انتہاپسندوں نے صوبہ خوست میں واقع چیک پوسٹ کو سرحد پار پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیررستان سے نشانہ بنایا اور دوسراحملہ اس وقت جب اتحادی افواج کے ہیلی کاپڑز واپس چھاؤنی پہنچ گئے تھے مگر پاکستان میں موجود انتہاپسندوں نے ان پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں نیٹو کے ہیلی کاٹر نے پھر فائرنگ کی۔ اس فائرنگ میں مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

پاکستان اپنی سرزمین پر غیرملکی حملوں کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہے مگر امریکی اہلکاروں نے اس واقع کوذاتی دفاع کا حق کہہ کر پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے تمام احتجاجوں کو رد کردیا ہے۔ نیٹوحکام کے مطابق پاکستان سے معاہدے میں یہ طے ہو چکا ہے کہ اگر اتحادی افواج کسی ضروری ہدف اور انتہاپسندوں کا پیچھا کر رہی ہیں تو وہ پاکستانی فضائی حدود میں ایک خاص فاصلے تک ان کے پیچھے آسکتی ہیں۔

نیٹو کی زیر ِ انتظامInternational Security Assistance Force (ISAF) کے ترجمان سرجنٹ میٹ سمرز نے حلمے کی تصدیق تو کردی ہے مگر یہ نہیں بیتا یا کہ حملے میں کون سے ملک کی فوج شامل تھی مگر یہ بات سب کو پتا ہے کہ اپاچی ہیلی کاپٹر صرف امریکی افواج کے ہی زیر ِ استعمال ہیں

رپورٹ : سمن جعفری

ادرات : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس