1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو اتحاد کے لیے مزید فنڈز کا امریکی مطالبہ جائز ہے، جرمنی

جرمن وزیرِ دفاع اُرزُلا فون ڈیر لائن نے کہا ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے لیے  مزید  فنڈز  کا امریکی مطالبہ جائز ہے۔ اُنہوں نے اسٹریٹیجیک مکالمت میں وسعت پیدا کرنے کی امریکی وزیر دفاع کی تجویز کو بھی اہم قرار دیا۔

Bundestag Verteidigungsministerin Ursula von der Leyen (picture-alliance/dpa/K. Nietfeld)

 جرمن وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اُن کے امریکی ہم منصب نے شام میں جنگ سمیت بہت سے عالمی مسائل پر اتفاق کیا

جرمن وزیرِ دفاع نے یہ بات اپنے امریکی ہم منصب جیمز ماٹیس سے ملاقات کے بعد کہی۔ گزشتہ روز امریکی وزیرِ دفاع کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کو اُرزُلا  فون ڈئیر لائن نے مثبت قرار دیا۔

 جرمنی اور دیگر یورپی طاقتیں اُس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئیں تھیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے اسے ’متروک‘ قرار دیا تھا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے اپنے موقف میں قدرے تبدیلی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا نیٹو اتحاد کی پُر زور حمایت کرتا ہے۔

فون ڈئیر لائن کا کہنا تھا کہ جرمن حکومت ، جو دفاع کی مد میں نیٹو کے اقتصادی پیداوار کے دو فیصد سے کم خرچ کرتی ہے، اس بات کو سمجھتی ہے کہ اس رقم میں اضافے کی ضرورت ہے۔

 فان ڈیئر لائن نے یہ بھی کہا کہ اگر عالمی تنازعات پر قابو پانے کی مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا ہے تو پھر مغربی دفاعی اتحاد کی ضروریات کے لیے فنڈ میں اضافے کا امریکی مطالبہ درست ہے۔ جرمن وزیر دفاع کے مطابق عالمی تنازعات سے مراد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہے۔

فون ڈیر لائن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے امریکی وزیرِ دفاع کی دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کو وسعت دینے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ فون ڈیرلائن کے مطابق  جیمز ماٹیس نے نیٹو کے ساتھ اپنی واضح اور گہری وابستگی کا اعادہ بھی کیا۔

 جرمن وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اُن کے امریکی ہم منصب نے شام میں جنگ سمیت بہت سے عالمی مسائل پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے مطابق شام میں جنگ کا مسئلہ روس کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا تاہم ماسکو حکومت کو خود مختار ممالک کی سرحدوں کا احترام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔

DW.COM