1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیٹو اتحاد کا میزائل شکن دفاعی نظام، روس متفق

روسی صدردیمتری میدویویدف نے میزائل شکن دفاعی نظام کے قیام میں تعاون سے متعلق نیٹو کی تجویز قبول کر لی ہے۔ اس سے قبل روس اس نظام کی تنصیب کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

default

پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں جاری نیٹو اتحاد کے سربراہی اجلاس میں سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے کہا کہ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا۔ "پہلی مرتبہ فریقین اپنے دفاع کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔"

NATO Generalsekretär Anders Fogh Rasmussen in Lissabon

راسموسن نے میزائل شکن نظام پر روس کی رضامندی کو اہم موڑ قرار دیا ہے

اس موقع پر روسی صدردمیتری میدویویدف کا کہنا تھا کہ کشیدہ تعلقات پر مبنی ایک انتہائی مشکل دور کا خاتمہ ہوا ہے۔

ایک مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ روس اور نیٹو کے درمیان سٹریٹیجک تعاون باہمی مفاہمت پر مبنی ہوگا، جس سے امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں مدد ملے گی۔

دوبرس قبل روس اور جارجیا کے مابین ہونے والی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روس نے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی ہے۔ اس سے قبل نیٹو رہنماؤں نے بیلیسٹک میزائل حملوں کے خلاف ایک میزائل شکن دفاعی نظام کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

NATO Gipfeltreffen Lissabon

روسی صدر نے اس اجلاس میں خصوصی شرکت کی

مسٹر راسموسن نے اس معاہدے کوایک " فیصلہ کن موڑ" کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کی طرف بڑھتے ہوئے کسی بھی بیلیسٹک میزائل کے خطرے کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا اور ایسے میزائل کو مار گرایا جائے گا۔

راسموسن کے مطابق، " نیٹو اتحاد اور روس کو یکساں سکیورٹی خطرات کا سامنا ہےاور ہم ایک دوسرے کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں، جس وجہ سے ہم اس معاہدے پر متفق ہوئے ہیں۔"

راسموسن کے کہا کہ روس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لئے براستہ روس مزید سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ یاد رہے کہ روس ماضی میں اس دفاعی میزائل نظام کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

اس دو روزہ سربراہی اجلاس کو نیٹو کی تاریخ میں سب سے اہم اجلاس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔

رپورٹ : امتیاز احمد

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس