1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیو یارک: چار مبینہ دہشت گرد گرفتار

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کےنمائندے جوزیف ڈیمارَیسٹ نے نیویارک میں بتایا کہ اُن کا ادارہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے اِن مشتبہ افراد پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

default

ڈیوڈ ولیمز عرف داؤد

بدھ کی شام نیویارک میں پولیس نے چار ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، جو اِسی امریکی شہر کے ایک یہودی عبادت خانے اور ایک ثقافتی مرکز کے ساتھ ساتھ فضائی افواج کے ایک اڈے کو بھی حملے کا نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ چاروں کو آج ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Anschlagsziel New York

یہودیوں کا عبادت خانہ جس کو مبینہ طور پر یہ چار افراد نشانہ بنانا چاہتے تھے

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کےنمائندے جوزیف ڈیمارَیسٹ نے نیویارک میں بتایا کہ اُن کا ادارہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے سے اِن مشتبہ افراد پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ: ’’ہمارا ایک خفیہ مخبر تھا، جسے اِس سارے منصوبے کا علم تھا۔ ہم نے چار اشخاص کو گرفتار کیا ہے، جو بدھ کی شام نیویارک کے علاقے برونکس میں واقع ایک یہودی عبادت خانے اور ایک یہودی کمیونٹی سینٹر کے باہر بم دھماکے کرنا چاہتے تھے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اِنہوں نے نیویارک سے 110 کلومیٹر شمال کی جانب Stewart کے مقام پر واقع اڈے کو بھی حملے کا نشانہ بنانے اور وہاں گائیڈڈ میزائلوں کی مدد سے ایئر نیشنل گارڈ کےایک فوجی طیارے کو بھی مار گرانے کے منصوبے بنائے تھے۔ ‘‘

تاہم چاروں گرفتار شُدہ افراد کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اُن کے کار بموں میں ڈالا گیا پلاسٹک بارودی مواد اور اُن کی کار کی پچھلی نشست پر طیارے کو مار گرانے کے لئے رکھا ہوا سٹنگر میزائل سب کچھ ناکارہ تھا، جو اُنہیں خود ایف بی آئی ہی کےایجنٹوں نے فراہم کیا تھا۔ اِن ایجنٹوں نے خود کو القاعدہ کے ساتھ رابطے رکھنے والے پاکستانی عسکریت پسند گروپ جیشِ محمد کے ارکان ظاہر کیا تھا۔ چنانچہ نیویارک پولیس کے نمائندے رے کَیلی نے کہا کہ بموں کے شروع ہی سے ناکارہ ہونے کی بناء پر کوئی بھی وقت ایسا نہیں تھا، جس میں شہری آبادی کو کوئی حقیقی خطرہ درپیش ہوتا۔

’’یہ بم ایف بی آئی ہی کے ٹیکنیشنز نے تیار کئے تھے اور یہ مکمل طور پر ناکارہ تھے۔ اِس لئے کسی شخص کے بھی اُس شام زخمی ہونے کا خطرہ نہیں تھا۔‘‘

Festnahmen in New York

اِن ایجنٹوں نے خود کو القاعدہ کے ساتھ رابطے رکھنے والے پاکستانی عسکریت پسند گروپ جیشِ محمد کے ارکان ظاہر کیا تھ

نیویارک سٹی کونسل کے رکن اولیور کوپل کے خیال میں ممکنہ دہشت پسند کارروائیوں کا تصور ہی خوفزدہ کر دینے والا ہے۔ ملکی تحفظ سے متعلق کمیٹی کے رکن اور ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے پیٹر کنگ نے کہا، اِن گرفتاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کو دہشت گردوں کی طرف سے درپیش خطرات کتنے حقیقی ہیں:

’’اِس سے ظاہر ہےکہ ہمیں اپنے ہی وطن میں پرورش پانے والے اور خاص طور پر نیویارک ہی میں آباد دہشت گردوں کی جانب سے کتنے حقیقی خطرات لاحق ہیں۔ آج تو ہم چین کی نیند سو سکتے ہیں کیونکہ یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ ابھی اور کتنے مشتبہ دہشت گرد آزاد پھر رہے ہیں، اِس لئے ہمیں انتہائی چوکنا رہنا ہو گا۔‘‘

گرفتار کئے گئے چار افراد کی قیادت جیمز کرومِٹی کر رہا تھا، جو ایک افغان پناہ گزین اور ایک سیاہ فام امریکی کی اولاد ہے اور اپنا نام عبدالرحمان بتاتا ہے۔ یہ لوگ یہودی عبادت خانے اور کمیونٹی سینٹر کے سامنے کار بم نصب کرنے اور اُنہیں موبائل فون سے جوڑنے کے بعد سٹیوارٹ فضائی اڈے کی طرف جا رہے تھے، جب پولیس نے اُنہیں گرفتار کر لیا۔