1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیو ہیمپشائر میں ٹرمپ اور سینڈرز کی جیت: اسٹیبلشمنٹ مخالف لہر

امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں منگل 9 فروری کو ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں بالترتیب سینیٹر برنی سینڈرز اور ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے فتح حاصل کر لی ہے۔

نیو ہیمپشائر کے زیادہ تر مقامات پر پولنگ مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام سات بجے ختم ہوگئی تھی۔ حتمی نتائج آنے والے چند گھنٹوں میں متوقع ہیں۔ نیو ہیمپشائر آئیووا کے بعد دوسری امریکی ریاست ہے جہاں صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ آئیووا میں ان دونوں ہی امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نیو ہیمپشائر میں ہونے والی ووٹنگ کے نتائج امریکی سیاسی منظر نامے پر ’Upsets کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ارب پتی ٹرمپ اور ڈیمو کریٹ سینڈرز کی کامیابی اس امر کی ثبوت ہے کہ ووٹرز امریکا کی اقتصادی صورتحال سے تنگ ہیں اور رواں برس 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے واشنگٹن کو صدمہ خیز پیغام دینا چاہتے ہیں۔

نیو ہیمپشائر میں کامیابی حاصل کرنے والے ریپبلکن لیڈر ٹرمپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ یکم فروری کو ٹیکساس کے سینیٹر ٹڈ کرُوز سے شکست کھانے کے بعد بھی سیاسی قوت رکھتے ہیں۔

USA Vorwahlen New Hampshire Trump Anhänger

ٹرمپ کے حامی جشن مناتے ہوئے

دوسری جانب نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک لیڈر اور سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن برنی سینڈرز سے شکست کھانے کے بعد کافی زخمی نظر آ رہی ہیں۔ کلنٹن کو محض 39 فیصد جبکہ سینڈرز کو 60 فیصد ووٹ ملے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ، ہیلری کلنٹن کو آئیووا میں بھی برنی کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا تھا اور وہ وہاں بمشکل جیت پائی تھیں۔ نیو ہیمپشائر میں نوجوان ووٹروں نے ’عوامیت پسند تجاویز‘ کو پسند کرتے ہوئے اپنا ووٹ سینڈرز کے نام کیا۔ سینڈرز نے بڑے بینکوں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے انہیں توڑنے اور حکومت کی طرف سے کالجوں کی ٹیوشن فیس کی ادائیگی جیسی تجاویز پیش کر کے نوجوان ووٹروں کے دل جیتے ہیں۔

نیو ہیمپشائر میں جیتنے والے 74 سالہ ڈیموکریٹ سینڈرز کو مبارکباد پیش کرنے کے بعد ہیلری کلنٹن نے ایک بیان میں کہا،’’عوام کو برہم ہونے کا پورا حق حاصل ہے تاہم وہ بھوکے بھی ہیں، انہیں مسائل کے حل کی بھوک ہے، میں ہر کسی سے زیادہ کوششیں کروں گی معاشرے میں تبدیلی لانے کی اور آپ کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی۔‘‘

USA Vorwahlen New Hampshire Hillary Clinton

ہلیری کلنٹن کو نیو ہیمپشائر میں محض 39 فیصد ووٹ ملے

69 سالہ ٹرمپ امریکا سے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے اور مسلمانوں کی امریکا آمد پر عارضی پابندی عائد کرنے کی مہم چلا چُکے ہیں۔ نیو ہیمپشائر میں اپنی فتح کی ریلی سے خطاب میں انہوں نے پہلے تو لطیب انداز میں مقابلے کے دیگر امیدواروں کو مبارکباد دی پھر اپنا روایتی مخصوص فسادی لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا،’’ ٹومورو بوم بوم۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ٹرمپ شیڈو باکسنگ ایکشن دکھا رہے تھے اوراُن کے حامی خوشی کے نعرے لگا رہے تھے۔

اُدھر ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے مینیجر روبی مووک نے ایک میمورنڈم میں کہا ہے کہ مارچ کے ماہ تک صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے فیصلے کی قوی امید ہے جس میں ہسپانوی نژاد امریکی باشندوں کے ووٹ مرکزی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ رواں ماہ کے اواخر میں صدارتی نامزدگیوں کے مقابلے کے اگلے مرحلے کی ووٹنگ نیواڈا اور جنوبی کیرولائنا میں ہوگی۔

DW.COM