1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیویارک میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت مل گئی

امریکی ریاست نیویارک کی انتظامیہ نے ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دے دی ہے۔ نیویارک میں کیتھولک مسیحی حلقوں نے اس فیصلے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

default

نیویارک سے پہلے بھی امریکہ کی پانچ ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت مل چکی ہے مگر نیویارک کو اس حوالے سے ممتاز حیثیت حاصل ہے کہ یہ اُن سب سے زیادہ گنجان آباد ہے۔ 42 سال قبل نیویارک ہی میں ہم جنس پرستوں کی جدید تحریک کی بنیاد پڑی تھی۔

جمعہ کو ریاستی اسمبلی کے 33 ارکان نے اس قانون کے حق میں جبکہ 29 نے اس کی مخالفت میں رائے دی۔ بل کی منظوری کے بعد ریاست کے گورنر اینڈریو کیومو Andrew Cuomo نے اس پر دستخط کرکے قانونی شکل میں ڈھال دیا۔ گورنر کیومو ایک ڈیموکریٹ سیاست دان ہیں اور یہ قانون انہوں نے ہی ریاستی اسمبلی میں منطوری کے لیے پیش کیا تھا۔

قانون کی منظوری کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کیومو نے کہا، ’’ یہ ووٹ ملک بھر میں ایک پیغام بھیجے گا کہ یہی آگے چلنے کا راستہ ہے۔‘‘ گورنر کے مطابق نیویارک نے سماجی انصاف کے نئے درجے کو چھوا ہے۔

Demonstration in Spanien gegen die Legalisierung der Ehe zwischen Homosexuellen

ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دینے کے خلاف منعقدہ ایک مظاہرہ، فائل فوٹو

اس قانون کی منظوری کو 2012ء کے صدارتی انتخابات سے قبل ہم جنس پرستوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والوں کی بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے جمعرات کو نیویارک میں ہم جنس پرستوں کی پریڈ کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے اس قسم کے اقدامات ان سے بشتر قدامت پسند، سیاہ فارم اور لاطینی نژاد ووٹروں کی دوری کا سبب بن سکتے ہیں۔

نیویارک کی ریاستی اسمبلی میں رائے شماری کے وقت چار ری پبلکن سیاست دانوں نے بھی اس قانون کے حق میں رائے دی۔ اُن میں سے ایک، سینیٹر اسٹیفن سالانڈ Stephen Saland کے بقول وہ تمام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس میں شادی کا حق بھی شامل ہے۔

نئے قانون کی منطوری کے تیس دن بعد ہم جنس پرست قانونی طور پر شادی کے بندھن میں جُڑ سکتے ہیں اور علیٰحدہ بھی ہوسکتے ہیں۔ قانون کی منظوری کے باوجود مذہبی حلقوں اور ان سے منسلک غیر سرکاری تنظیمیوں کو ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے لیے انتظامات کے حوالے سے تعاون پر مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔ خیال رہے کہ قدامت پسند مسیحی حلقے ہم جنس پرستوں کی شادی کے مخالف ہیں۔ ریاست کی کیتھولک کانفرنس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے، ’’ ہم ہمیشہ اپنے ہم جنس پرست بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ عزت، وقار اور محبت سے پیش آتے ہیں مگر دعوے سے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ شادی ایک مرد اور عورت کا ملاپ ہے۔‘‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM