1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیویارک میں کار بم ناکارہ بنا دیا گیا

امریکی شہر نیویارک کا ٹائمز اسکوائر، جہاں سے روزانہ ہزارہا افراد کا گزر ہوتا ہے، ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا ہے۔ پولیس نے مین ہیٹن کے عین وَسط میں ایک کار بم کا پتہ چلا کر اُسے ناکارہ بنا دیا۔

default

بتایا گیا ہے کہ یہ ایک خود ساختہ کار بم تھا، جس کے ٹائمنگ آلات پوری طرح کام کرنے میں ناکام رہے اور جب پولیس والے وہاں پہنچی تو کار میں سے سفید دھواں نکل رہا تھا۔ نیویارک کے ایک شہری نے یہ دھواں دیکھا اور ایک پولیس اہلکار کو اطلاع دی، جس نے فوراً مدد طلب کر لی۔

نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے اتوار کی صبح عجلت میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس کہا:’’گزشتہ شب ساڑھے چھ بجے سڑکوں پر ٹی شرٹس بیچنے والے ایک شہری نے، جو ویت نام کی جنگ میں لڑ چکا ہے، ایک مشکوک گاڑی دیکھی۔ اُس نے فوراً نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سپاہی وین ریٹیگن کو اطلاع دی ، جو گھوڑے پر سوار ٹائمز اسکوائر میں گشت کر رہا تھا۔‘‘

Times Square Bombenalarm

جائے واقعہ کا ایک منظر

بلومبرگ کا کہنا تھا،’’ہم بہت خوش ہیں کہ نیویارک کے ایک چوکس شہری اور ایک باہمت پولیس اہلکار کی وجہ سے ہم ایک ہولناک واقعے سے بچ گئے ہیں۔‘‘

ایک جاپانی کمپنی کی بنی ہوئی گہرے سبز رنگ کی یہ کار ’بینک آف امریکہ‘ کی ایک شاخ کے سامنے پارک کی گئی تھی۔ یہ جگہ وہاں سے زیادہ دور نہیں ہے، جہاں ستمبر سن 2001ء میں ایک دہشت پسندانہ حملے کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر تباہ ہو گیا تھا۔

ماہرین نے آ کر دیکھا تو واقعی اِس گاڑی میں دیسی ساخت کا ایک بم نصب تھا۔ یہ بم پروپین گیس کی بوتلوں، پٹرول کے پانچ پانچ لیٹر کے دو کنستروں، دو کلاکس اور آتش بازی کے سامان کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ پہلے ایک روبوٹ کی مدد سے گاڑی کو کھولا گیا، جس کے بعد مخصوص حفاظتی لباس میں ملبوس ماہرین نے بم کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ میئر بلومبرگ کے مطابق یہ بم چل جاتا تو ایک دھماکہ ہوتا اور بڑے پیمانے پر آگ لگ جاتی۔ اُنہوں نے کہا، ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کارروائی کس نے کی اور کیوں کی۔

Times Square Bombenalarm Flash

واقعے کے بعد تمام علاقہ خالی کرا لیا گیا

اِس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے اِس علاقے کی ناکہ بندی کر دی، جس کے باعث ہزاروں افراد بروڈ وے تھئیٹرز یا اپنے اپنے ہوٹلوں میں نہ جا سکے۔ آٹھ گھنٹوں تک ٹائمز اسکوائر، جو دُنیا کے پُر ہجوم اور بارونق ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، انسانوں سے مکمل طور پر خالی رہا۔

بلومبرگ نے یقین دلایا کہ شہر محفوظ ہے تاہم اُنہوں نے شہریوں اور سیاحوں سے چوکنا رہنے کے لئے کہا ہے۔ اب مختلف کیمروں کی فوٹیج دیکھ کر یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا گاڑی کو یہاں پارک کرنے والا شخص بھی کسی کیمرے کی گرفت میں آیا ہے۔ سیاحوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہفتے کے روز اُتاری گئی اپنی تصاویر حکام کو فراہم کریں، ممکن ہے کسی تصویر میں گاڑی کو یہاں پارک کرنے والا شخص دکھائی دے رہا ہو۔ اب تک کسی شخص یا گروپ نے اِس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ نیویارک اسٹیٹ گورنر ڈیوڈ پیٹرسن نے اِس ’دہشت پسندانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی صدر باراک اوباما کو بھی ٹائمز اسکوائر کے اِس واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

نیویارک کی پولیس ہمہ وقت چوکنا رہتی ہے۔ ابھی گزشتہ دسمبر میں بھی اِس علاقے کو ایک مشکوک گاڑی کا پتہ چلنے پر بند کر دیا گیا تھا۔ خدشہ تھا کہ اُس میں کوئی بم نصب ہے تاہم جانچ پڑتال کے بعد اُس میں سے کوئی خطرناک شَے برآمد نہیں ہوئی تھی۔

رپورٹ : امجد علی

ادارت : عاطف توقیر