1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیویارک شوٹنگ، دن دیہاڑے امام مسجد اور نائب کا قتل

امریکی شہر نیویارک میں ایک امام مسجد اور ان کے نائب کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ یہ حملہ عقیدے کو بنیاد بنا کر نہیں کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے نیو یارک پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے امام مسجد اخون جی بنگلہ دیش سے دو برس قبل ہی امریکا منتقل ہوئے تھے۔ تاہم اس شوٹنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ہفتے کے دن شوٹنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والا دوسرا شخص امام مسجد کا نائب تھا۔ امام مسجد کی شناخت پچپن سالہ اخون جی کے نام سے کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں ظہر کی نماز کے بعد مسجد سے نکلے تو کوئینز کے علاقے میں ایک مسلح حملہ آور نے ایک مصروف سڑک پر ان پر فائرنگ کر دی۔

پولیس نے بتایا کہ یہ دونوں افراد سر پر گولیاں لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ امام مسجد کا انتقال موقع پر ہو گیا جبکہ اس کے ساتھ موجود دوسرا شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

پولیس کے مطابق اس شوٹنگ کے محرکات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے لیکن بظاہر دوہرے قتل کے اس واقعے کا ارتکاب عقائد کو بنیاد بنا کر نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی۔ تاہم نیو یارک پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس اہلکار متحرک ہیں۔

نیو یارک محکمہ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر ہنری سوٹنر نے نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ جب فائرنگ کی گئی، تو دونوں مقتولین مسلمان عمومی مذہبی لباس میں ملبوس تھے۔ اس علاقے کے کچھ مکینوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس خونریزی کو ’نفرت پر مبنی جرم‘ قرار دیا ہے۔

New York Imam und Assistent erschossen - Reaktionen Passanten

شوٹنگ کے اس واقعے کے بعد مسلمانوں نے مظاہرہ بھی کیا

New York Imam und Assistent erschossen

اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی

New York Tote nach Schießerei an Moschee Demonstration

پولیس کے مطابق بظاہر دوہرے قتل کے اس واقعے کا ارتکاب عقائد کو بنیاد بنا کر نہیں کیا گیا

New York Imam und Assistent erschossen - Spurensicherung

نیو یارک پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس اہلکار متحرک ہیں

کوئینز کے علاقے کے ایک مسلمان رہائشی ملت الدین نے مقامی ریڈیو ’ڈبلیو سی بی ایس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس وقت ہم خود کو انتہائی غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ (شوٹنگ کا واقعہ) ہمارے مستقبل اور طرز زندگی کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔‘‘

ایک اور مقامی رہائشی خیر الاسلام نے اس واقعے کو نفرت پر مبنی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کی۔

نیو یارک کے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’ٹرمپ اور ان کے ڈرامے نے اسلاموفوبیا یا اسلام سے خوف کو جنم دیا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم میں مسلمانوں کے بارے میں کئی متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات