1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیویارک دہشت گردی کی تحقیقات پشاور میں بھی

اگرچہ ابھی کسی تحقیقاتی ادارے نے پشاور میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز نہیں کیا ہے، تاہم نیویارک میں ناکام دہشت گردی کے الزام میں گرفتار فیصل شہزاد کے پشاور میں مقیم رشتہ دار پوچھ گچھ اورگرفتاری کی وجہ سے روپوش ہو گئے ہیں۔

default

میڈیا کی وجہ سے ان کے رشتہ دار منظرعام پر آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ فیصل شہزاد کا تعلق ضلع نوشہرہ کے علاقہ محب بانڈہ سے ہے جبکہ پاکستان ایئرفورس سے ریٹائرڈ ہونے والے اس کے والد بہار الحق پشاورکی جدید بستی حیات آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ تاہم میڈیا میں فیصل شہزاد کے بارے میں خبریں آنے کے بعدسے اُس کے گھر پر تالا لگا ہے۔

پڑوسیوں اور رشتہ داروں کاکہنا ہے کہ فیصل شہزاد گزشتہ سال جولائی میں پاکستان آیا تھا۔ اُس نے اپنے ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت بھی کی تھی۔ محب بانڈہ میں علاقہ کے سابق ناظم فیض احمد کاکہنا ہے کہ ”فیصل شہزاد بنیادی طور پر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روشن خیال انسان تھا۔ کراچی جانے کے بعد اُس میں تبدیلی دیکھنے میں آئی اور وہ خاموش رہنے لگا۔

فیصل شہزاد نے یہاں کے ایئرفورس کے زیر انتظام چلنے والے سکول سے میٹرک کیا۔ اُسے انتہائی محنتی شخص کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ شہزاد نے بنیادی تعلیم پشاور میں پاکستان ایئرفورس کے سکول سے حاصل کی تھی جبکہ بعدازاں وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ چلا گیا۔ اُس نے واشنگٹن کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 2008ء میں ایک امریکی خاتون سے شادی کی جبکہ 17اپریل 2009ء کواُسے امریکی شہریت مل گئی۔

اگرچہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تاحال فیصل شہزاد کے رشتہ داروں سے باقاعدہ پوچھ گچھ اورتحقیقات کاآغاز نہیں کیا تاہم اس کے باوجود ان کے زیادہ تر رشتہ دار یا تو روپوش ہو گئے ہیں یا پھر میڈیا سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح علاقے کے عوام بھی اس خبر کے میڈیا میں بار بار آنے اور اس پر خصوصی توجہ دینے سے تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔

رپورٹ: فرید اللہ خان

ادارت: امجد علی

DW.COM