نیویارک، ’دہشت گردانہ حملے‘ کا مشتبہ ملزم گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 11.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیویارک، ’دہشت گردانہ حملے‘ کا مشتبہ ملزم گرفتار

نیویارک شہرکے مرکزی بس اسٹاپ پر ہونے والے مبینہ دیشت گردانہ حملے کے بعد پولیس نے 27 سالہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق زیرِحراست بنگلہ دیشی نژاد ’عقائد اللہ‘ نامی شخص دہشت گرد تنظیم داعش سے متاثر ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ  پیرکی صبح مصروف ترین اوقات کے دوران نیویارک پورٹ اتھارٹی کی 42 اسٹریٹ کے قریب تین دھماکوں کی اطلاع موصول ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ نیویارک شہر کے مصروف ترین بس ٹرمینل میں ہونے والے ان دھماکوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہے۔

نیو یارک شہر کے میئر بل دی بلاسیو نے اس دھماکے کو ’دہشت گردانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے، ’خدا کا شکر ہے حملہ آور اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘۔ نیویارک کے میئر  اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مزید کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور ’عقائداللہ‘ کی عمر 27  سال ہے اور ’وہ دہشت گرد  تنظیم داعش کے خیالات سے متاثر ہے۔ تاہم مشتبہ حملہ آور کا اس گروہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

سکیورٹی فورسز کے متعلقہ اہلکاروں نے مشتبہ حملہ آور کی شناخت کی تفصیلات میں بتایا ہے کہ ’مشتبہ حملہ آور بنگلا دیشی نژاد ہے اور وہ بروکلن شہر کا رہائشی ہے۔‘ دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ میں ’پائپ بم‘ کے پھٹنے کے حوالے سے خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ خبررساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے  حکام  نے بتایا ہے کہ دھماکے میں ہلکی نوعیت کی دھماکا خیز  ڈیوائس استعمال کی گئی۔

اس مبینہ دہشت گردانہ کارروائی کے بعد پولیس اور فائر فائیٹرز نے ہنگامی طور پر نیویارک پورٹ اتھارٹی کے گرد ونواح  میں واقع ٹرین اور بس ٹرمینل کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے علاقے کے تمام میٹرو سٹیشن اور بس ٹرمینل کو بند کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق ابھی مزید تفتیش جاری ہے۔

نیو یارک شہر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران دہشت گردی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل ازبک مہاجر نے نیو یارک میں راہ چلتے آٹھ افراد پر ٹرک چڑھا دیا تھا۔ اس دہشت گردی کے حملے کی ذمہ داری بھی داعش کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔