1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیوکلیئر سپلائرز گروپ: پاکستان نے رکنیت کی درخواست دے دی

پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی رکنیت کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔ اسلام آباد کے مطابق اس اہم گروپ میں شمولیت سے جوہری ہتھیاروں کی عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں میں مدد ملے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسلام آباد نے بیس مئی بروز جمعہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کا رکن بننے کی خاطر باقاعدہ طورپر درخواست جمع کرا دی۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

پاکستان ایک طویل عرصے سے اس گروپ کا رکن بننے کی کوششوں میں ہے۔ رکنیت کے بعد پاکستان بھی اس گروپ کے دیگر ممبران کی طرح سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو سکے گا جبکہ ساتھ ہی اس تناظر میں عالمی سطح پر مواد اور خدمات بھی مہیا کر سکے گا۔

پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی سول ایٹمی پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ یہ دونوں ملک ایسے کچھ ترقی پذیر ممالک میں شمار کیے جاتے ہیں، جو سن 2012 میں فوکوشیما کے جوہری حادثے کے باوجود توانائی کی خاطر جوہری بجلی گھر چلا رہے ہیں۔

اے ایف پی نے بتایا ہے کہ پاکستان نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ اس گروپ میں پاکستان کی شمولیت سے اسلام آباد بھی عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکے گا۔

حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی IAEA کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کا رکن بن کر اپنا کردار نبھانا چاہتا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ برس اگست میں ہی چین کے تعاون سے کراچی کے قریب دو نیوکلیئر پاور پلانٹس لگانے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ دس بلین امریکی ڈالر کی لاگت سے بننے والے یہ دونوں ایٹمی پلانٹ سن 2020 تک کارآمد ہو جائیں گے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ اپنے ہاں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے وہ جوہری توانائی کو بروئے کار لائے۔

تاہم ماہرین کے مطابق کراچی جغرافیائی اعتبار سے ایک ایسے مقام پر واقع ہے، جہاں سونامی کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی قدرتی آفت کے نتیجے میں ان جوہری پلانٹس میں کوئی بھی خرابی یا حادثہ کراچی بھر کی آبادی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اسلام آباد کے مطابق ان پلانٹس کی تیاری میں عالمی معیارات کو ملحوظ رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کسی حادثے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) اڑتالیس اقوام کا ایک کلب ہے، جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے کوششیں کرنا ہے۔ اس گروپ میں شمولیت کی ایک عمومی شرط یہ بھی ہے کہ خواہشمند ملک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT کا رکن بھی ہو لیکن پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت بھی اس اہم گروہ میں ابھی تک شامل نہیں ہے۔

DW.COM