1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیول بیس پر حملے سے دہشت گردی کے خلاف کوششیں متاثر

کراچی میں نیول بیس پر طالبان کے حملے میں دو اہم طیاروں کی تباہی نے اپنی ساحلی پٹی کے تحفظ کے لیے پاکستانی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ اسلام آباد نے یہ طیارے امریکہ سے حاصل کیے تھے۔

default

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان طیاروں کی تباہی سے مغرب کی سربراہی میں سمندری علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کی شرکت بھی متاثر ہو گی۔

طالبان عسکریت پسندوں نے اتوار کی شب کراچی میں بحریہ کے ایک اڈے پی این ایس مہران پر حملہ کیا، جسے پاکستان کے سمندری علاقے کی فضائی نگرانی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو ان پر قابو پانے میں تقریباﹰ سترہ گھنٹے لگے۔ اس دوران شدت پسندوں نے دس فوجیوں کو ہلاک کیا جبکہ دو پی۔تھری سی اورین طیارے بھی تباہ کر دیے۔

پاکستان نے دو اورین طیارے 2006ء میں خریدے تھے جبکہ امریکہ نے دو مزید اپ گریڈڈ طیارے گزشتہ برس فراہم کیے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی لاگت تقریباﹰ ساڑھے تین کروڑ ڈالر ہے۔ فوج کے ترجمان میجرجنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ابھی تک ایسے تین طیارے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف نیٹو کے آپریشن میں معاونت کے لیے پاکستان آبدوز شکن اور سمندری علاقوں کی نگرانی کے لیے خصوصی طیارے استعمال کرتا ہے۔

سلامتی امور کے تجزیہ کار امتیاز گُل کا روئٹرز سے گفتگو میں کہنا ہے کہ کراچی حملے سے پاکستان کو مادی سے زیادہ نفسیاتی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ’یہ طیارے حملوں کے لیے استعمال نہیں کیے جا رہے تھے۔ ان کا مقصد نگرانی کرنا تھا اور اب بحرِ ہند اور بحیرہ عرب پر پاکستان کی نگاہ کمزور ہو گئی ہے۔‘

سابق فوجی جنرل اور کالم نگار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ یہ طیارے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا، ’سمندری سکیورٹی کے حوالے سے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ وہ بحریہ کی آنکھیں اور کان ہیں۔‘

Pakistan Angriff auf Marinestützpunkt NO FLASH

اس اڈے پر طالبان نے دو طیارے بھی تباہ کیے

انٹیلیجنس کمپنی STRATFOR کے مطابق ان طیاروں کی وجہ سے پاکستان بحریہ کی انٹیلیجنس استعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

طلعت مسعود کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان طیاروں کے ہاتھ سے جانے سے بھارت کے خلاف بھی پاکستان کی اہلیت کو نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ اور برطانیہ اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کا ساتھ دینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM