1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیوز آف دی ورلڈ کو بند کرنے کا اعلان

خبروں کی کھوج میں فلمی ستاروں، سیاستدانوں اور عام شہریوں کے ٹیلی فون ہیک کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

default

اخبار کے مالک Rupert Murdoch نے گزشتہ روز حیران کُن طور پر یہ اعلان کیا۔ ان کے مطابق اتوار کو اس ہفت روزہ اخبار کا آخری شمارہ شائع کیا جائے گا۔ بعض مبصرین اسے نیوز آف دی ورلڈ کی جانب سے پیشہ ورانہ اقدار کی پامالی کے ازالے اور بعض دیگر محض ایک کاروباری چال کا نام دے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مرڈاک اس منافع بخش اخبار کے بدنام ہو جانے کے بعد اس کی ’قربانی‘ دے کر مستقبل میں ٹیلی وژن کی منڈی میں قدم جمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں برٹش سکائی براڈ کاسٹنگ کمپنی کے حقوق خریدنے کی بات چل رہی ہے۔ واضح رہے کہ Murdoch اربوں ڈالر مالیت کی نیوز کارپوریشن کے چیئرمین ہیں، جبکہ نیوز آف دی ورلڈ اس کمپنی کی متعدد پراڈکٹس میں سے محض ایک نام ہے۔

مشہور شخصیات کی نجی زندگیوں کے حوالے سے چٹ پٹی خبریں شائع کرنے والے اس اخبار کی ہر ہفتے قریب تین ملین کاپیاں فروخت ہوتی ہیں۔ نیوز آف دی ورلڈ میں کام کرنے والے دو سو افراد کے مستقبل کے حوالے سے فی الحال محض اتنا کہا گیا ہے کہ انہیں کمپنی میں دیگر مقامات پر دستیاب نوکریوں سے متعلق درخواستیں دینے کے لیے کہا جائے گا۔

مرڈاک نے اخبار بند کرنے سے متعلق جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا، ’’اچھے کام جو نیوز آف دی ورلڈ کرتا ہے، انہیں ایسے طرز عمل سے داغدار کر دیا گیا ہے جو غلط تھا۔ اگر یہ حالیہ الزامات درست ہیں، تو یہ غیر انسانی عمل تھا جس کے لیے ہماری کمپنی میں کوئی جگہ نہیں۔ دی نیوز آف دی ورلڈ کا کام دوسروں کا احتساب کرنا ہے لیکن جب اس کی اپنی بات آئی تو یہ ناکام ہوگیا۔‘‘

Großbritannien Abhörskandal um die britische Boulevardzeitung News of the World

نیوز آف دی ورلڈ 168 سال سے شائع ہو رہا ہے

تجزیہ نگاروں کا اندازہ ہے کہ اب اسی کمپنی کا دوسرا اخبار دی سن اتوار کو بھی شائع ہونا شروع ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ نیوز آف دی ورلڈ کی جانب سے اپریل میں یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ خبروں کے حصول کے لیے اس جریدے نے مشہور شخصیات کی وائس میلز تک بھی رسائی حاصل کی۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد انکشاف ہوا کہ اس سلسلے کی جڑیں خاصی گہری ہیں اور یہ کام اخبار کے اعلیٰ منتظمین کی باقاعدہ اجازت سے ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال برطانیہ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف بھی نیوز آف دی ورلڈ نے ہی کیا تھا۔

اس سلسلے میں شدت رواں ہفتے اس وقت پیدا ہوئی جب یہ انکشاف ہوا کہ نیوز آف دی ورلڈ نے ایک مقتولہ لڑکی کے ٹیلی فون کو بھی ہیک کیا تھا۔ تجارتی ساکھ کو لاحق ممکنہ خطرے کے ڈر سے O2, Ford اور Sainsbury سمیت بعض دیگر موبائل فون کمپنیوں نے فوری طور پر نیوز آف دی ورلڈ کو اشتہار دینا بند کر دیے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس