1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیوزی لینڈ کے اسکولوں میں مزاق اور تشددکا نشانہ بنائے جانے کی روک تھام کا حکم

نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے ملک کے تمام اسکولو‌ں کو حکم دیا ہے کہ وہ بُلینگ یا ڈرانے دھمکانے سے نمٹنے کی اپنی پالیسی پر ایک بار پھر نظر ثانی کریں۔

default

نیوزی لینڈ کے ایک اسکول کی 15 سالہ لڑکی کو اس کے کلاس فیلوز کی جانب سے بے رحمی سے مارنے کے بعد بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو کو ایک طالبعلم نے اپنے موبائل فون کے کیمرے سے فلمبند کر لیا جسے بعد میں ٹی وی پر بھی نشر کیا گیا۔

اس واقعہ کو ملکی کابینہ کے ایک اجلاس میں بحث کا مضوع بھی بنایا گیا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کی کا کہنا تھا کہ وہ اسکول جانے والے ان بچوں کے لیے فکر مند ہیں جو دوسرے بچوں سے خوفزدہ ہیں۔ ڈرانے دھمکانے کے رویے کو کس طرح سے ختم کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بدمعاشی جیسے رویے کو بڑھنے سے اب روکنے کی اشد ضرورت ہے۔

Flash-Galerie Gewalt an der Schule

بچوں کو اسکول میں دوسرے بچوں کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کا اثر ان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے

نیوزی لینڈ کے College Wanganui Girls میں رابن ڈی یانگ نامی لڑکی پر ہونے والے حملے کی ویڈیو اتنی پُر تشدد تھی کہ اسے ملک کے ٹی وی چینل TV3 نے حملے کے تمام مناظر کے ساتھ نشر کرنے سے اجتناب کیا۔ جبکہ نیوزی لینڈ کے اخبار ہیرالڈ نے اس ویڈیو کو شدید تشدد کے مناظر رکھنے کے باعث اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کرنے سے انکار کر دیا۔

ہیرالڈ اخبار کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کے سر پر دو بار گھٹنے سے حملہ کیا گیا جبکہ 24 مکے مارے گئے۔ اس کے علاوہ اسے زمین پر پٹخنے کے بعد اس کے سر اور کمر پر لاتیں ماری گئیں جس کی وجہ سے اس کے کانوں سے خون بہنے لگا اور وہ بےہوش ہو گئی۔ اس وقت وہ شدید زخموں کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

Flaggen Neuseeland

نیوزی لینڈ کے اسکولوں کو حکومت کی جانب سے طالبعلموں کو ایک دوسرے پر تشدد سے نمٹنے کی پالسی پر نظر ثانی کا حکم دیا گیا ہے

تشدد کی شکار لڑکی رابن کا کہنا ہے کہ اسے لگتا ہے کہ اس پر حملہ اس وجہ سے ہوا ہے کیونکہ اس نے اپنے استادوں کو یہ بتایا ہے کہ اسے حملہ آور نے خبردار کیا تھا کہ اسے کوئی چھرا مار کے زخمی کر دے گا۔

ہیرالڈ کے مطابق پولیس نے حملہ آور طالبعلموں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اسکول پرنسپل کے مطابق اسکول بورڈ جو سب سے سخت قدم اٹھا سکتا ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے ذمہ دار طالبعلموں کو کالج سے نکال دیا گیا ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: کشور مصطفی

DW.COM