1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیوزی لینڈ، کان کنوں کی امداد میں پیش رفت نہیں ہوئی

نیوزی لینڈ میں تین روز قبل کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد پھنس کر رہ جانے والے کان کنوں کو باہر نکالنے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

default

مقامی حکام کے مطابق زیرزمین متاثرہ کان میں زہریلی گیس کی موجودگی کے باعث وہاں امدادی کارکنان کو بھیجنا خطرے سے خالی نہیں۔ پولیس سپریٹنڈنٹ گیری نولیس کے مطابق : ’’اگر ہم کان کنوں کی تلاش کے لئے امدادی کارکنوں کو زیرزمین بھیجتے ہیں، تو مزید انسانی جانوں کا زیاں ہو سکتا ہے، جس کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔‘‘

Minenunglück in Mexiko im Februar 2006 in der Mine Pasta de Conchos

اس حادثے میں متعدد 29 افراد ابھی تک کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں

گیری نولیس نے یہ بات دھماکے کے بعد لاپتہ ہو جانے والے کان کنوں کے خاندانوں سے ملاقات کے بعد اپنی ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔ ہفتے کی رات ان کان کنوں کی سلامتی کے لئے خصوصی دعائیہ تقریب بھی منعقد کی گئی، جس کے بعد متعدد متاثرہ خاندانوں کی طرف سے جذباتی مناظر بھی دیکھے گئے۔ متاثرہ کان میں پھنس جانے والے کان کنوں کے متعدد رشتے دار اس موقع پر اشک بار بھی دکھائی دئے۔

گیری نولیس نے اپنی نیوزکانفرنس میں کہا کہ وہ ابھی نامید نہیں ہوئے اور ان کی توجہ اب بھی امدادی آپریشن پر ہی مرکوز ہے۔

اس موقع پر گرے ماؤتھ نامی علاقے میں قائم ایک مرکزی چرچ کی طرف سے اپیل بھی کی گئی کہ عوام کان کنوں کی سلامتی کے لئے پر امید رہیں تاہم یہ بھی کہا گیا کہ کسی طرح کی بری خبر کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔

Neuseeland Landschaft

یہ واقعہ نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے میں پیش آیا

جمعے کے روز نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے گرے ماؤتھ سے 50 کلومیٹر دور واقع پائک دریا کی کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں وہاں 29 افراد پھنس گئے تھے، جن سے اب تک کسی بھی طرح کا رابطہ ممکن نہیں ہو پایا ہے اور اب تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا یہ کان کن زندہ بھی ہیں یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دھماکے کے بعد اس کان میں کام کرنے والے دو مزدور جان بچا کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان افراد کے مطابق ان کے پیچھے تین دیگر کان کن بھی باہر نکلنے کے لئے دوڑے تھے، تاہم وہ باہر نہ نکل پائے۔

پائک دریا کوئلے کی کان کے چیف ایگزیکٹو پیٹر وائٹال نے اتوار کے روز اپنی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کان کے اندر درجہ حرارت میں تبدیلی سے واضح ہےکہ زیرزمین کوئی سرگرمی ہو رہی ہے، تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کان کنوں کی کسی تگ و دو کا نتیجہ ہے یا کچھ اور۔

انہوں نے بتایا کہ 16 امدادی کارکن مکمل طور پر تیار بیٹھے ہیں تاہم ابھی زیرزمین زہریلی گیس کی موجودگی کے باعث کان میں نہیں بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جانچ سے واضح ہےکہ اس کان میں زہریلی گیس کی شدت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس