1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیوزی لینڈ میں زلزلے کے جھٹکے،کرائسٹ چرچ میں ایمرجنسی نافذ

نیوزی لینڈ میں حکام نے ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر کرائسٹ چرچ میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی۔

default

ہفتہ کو صبح سویرے آنے والے اس زلزلے سے وسیع تر تباہی ہوئی۔ اس زلزلے کا مرکز کرائسٹ چرچ سے مغرب کی طرف تیس کلو میٹر کے فاصلے پر زمین میں کئی کلومیٹر کی گہرائی پر بتایا گیا ہے۔ زلزلے کے ان جھٹکوں سے بے شمار عمارتوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا۔ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ تاہم خوش قسمتی سے کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔ صرف چند افراد زخمی ہوئے، جن میں سے دو کو شدید چوٹیں آئیں۔

Erdbeben in Neuseeland

کم از کم ایک بلین یورو کا نقصان ہوا

شہری دفاع کے وزیر جون کارٹر نے کہا ہے شکر ہے کہ اس قدر طاقتور زلزلے کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کارٹر نے واضح کیا ہے کہ زلزلے کے سبب مالی نقصان البتہ خاصا زیادہ ہوا ہے۔ مقامی ٹیلی ویژن سے بات چیت میں کارٹر نے کہا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے میں وقت لگے گا۔

کرائسٹ چرچ کے میئر باب پارکر نے صحافیوں کو بتایا کہ شہر میں فراہمی و نکاسی آب کی پائپ لائنیں، بجلی کی فراہمی کا نظام اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔کرائسٹ چرچ کے ہوائی اڈے کے رن وے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

Erdbeben in Neuseeland

خوش قسمتی سے کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا

بحر الکاہل کے سونامی مرکز کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس زلزلے کے بعد کسی قسم کی کوئی سونامی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے۔

زلزلے کے فوری بعد مضافاتی علاقوں میں لوٹ مار کے چند واقعات بھی پیش آئے۔

کرائسٹ چرچ کی آبادی تین لاکھ چھیاسی ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ نیوزی لینڈ میں ہر سال چودہ ہزار زلزلے آتے ہیں۔ وہاں آخری مرتبہ 7.1 کی شدت سے زلزلہ 1968 میں آیا تھا۔ آج علی الصبح آنے والے زلزلے کے مادی نقصانات کا فوری اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ کم از کم ایک بلین یورو کا نقصان ہوا ہے۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : کشور مصطفی

DW.COM

ویب لنکس