1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیوزی لینڈ میں زلزلہ: ہلاکتیں چار سو تک پہنچنے کا خدشہ

نیوزی لینڈ میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد چار سو کے قریب پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امدادی کارکن چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

default

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں منگل کو چھ اعشاریہ تین شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے بعد امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، جس سے یہ امید بندھی ہوئی ہے کہ لاشوں کے ساتھ شاید کچھ افراد زندہ بھی نکل آئیں۔

تاہم پولیس سپرنٹینڈنٹ رسل گبسن نے کہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ یقینی ہے۔ ابھی تک 75 لاشیں نکالے جانے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جان کی نے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔

منگل کی شب تیس افراد کو بچایا گیا ہے جبکہ تقریباﹰ تین سو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں غیرملکی طلبا بھی شامل ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سی ٹی وی بلڈنگ کے ملبے تلے کسی زندہ فرد کی امید باقی نہیں رہی۔ اس عمارت میں غیرملکی طلبا کے لیے انگریزی زبان کا ایک اسکول ’کنگز ایجوکیشن کالج‘ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ لاپتہ افراد میں چوبیس جاپانی شہری ہیں، جن میں اسی کالج کے گیارہ طلبا بھی شامل ہیں۔

Karte Neuseeland Erdbeben englisch 02/2011

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گزشتہ برس بھی زلزلہ آ چکا ہے

پولیس آپریشنز کمانڈر ڈیو لاری نے کہا، ’سی ٹی وی بلڈنگ میں متعدد غیرملکی طلبا آتے تھے اور میرا دِل ان خاندانوں کے بارے میں سوچتے ہوئے بہت دکھتا ہے، جنہیں اس قدر دُور یہ خبر مل رہی ہے کہ ان کے بچے یا خاندان کے دیگر افراد شاید ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

اس زلزلے کو نیوزی لینڈ میں گزشتہ اسّی برس کی بدترین قدرتی آفت قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ کرائسٹ چرچ میں ابھی چھ ماہ پہلے بھی سات اعشاریہ صفر شدت کا زلزلہ آیا تھا، اس وقت شہر کسی جانی نقصان سے محفوظ رہا تھا۔ تاہم منگل کے زلزلے سے متعدد عمارتیں گر گئی ہیں جبکہ شہر کا مرکز ملبے کے ڈھیر میں تبدیل دکھائی دیتا ہے۔ شہر کا لینڈ مارک کیتھیڈرل بھی متاثر ہوا ہے۔ کرائسٹ چرچ کا بیشتر حصہ بجلی اور پانی سے محروم ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس