1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

نیند میں چلنے کی بیماری کا تعلق کروموسومز کے نقص سے

نیند میں چلنے والوں کی چار نسلوں کے کروموسومز یا لونیے کے بارے میں کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ ان میں کروموسوم 20 کا نقص پایا جاتا ہے۔

default

طبی سائنسدانوں کے مطابق انہوں نے ایسے جینیاتی ضوابط کا پتہ لگایا ہے، جو انسانوں کے نیند میں چلنے کی بیماری کا موجب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیند میں چلنے والوں کی چار نسلوں کے کروموسومز یا لونیے کے بارے میں کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ ان میں کروموسوم 20 کا نقص پایا جاتا ہے۔

جرنل آف نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جسم کے اندر کسی ایک ناقص ڈی این اے کی موروثی طور پر موجودگی نیند میں چلنے کی بیماری کا سبب بنتی ہے۔ تاہم محققین ایسے جینز کو ہدف بنا کر نقص دور کرنے کے لئے کوئی طریقہ علاج دریافت کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ یہ جینز 10 فیصد بچوں جبکہ 50 بالغ افراد میں سے غالباً ایک کو مثاثر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر و بیشتر نیند میں چلنے کی بیماری بے ضرر ہوتی ہے اور یہ بڑھ سکتی ہے۔

09.10.2009 DW-TV Projekt Zukunft Schlafen3.jpg

کروموسوم 20 کا نقص نیند میں چلنے کی بیماری کا سبب بنتا ہے

بچوں کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں ایسے دَور آتے ہیں، جب وہ نیند میں عالم وجد یا مدہوشی میں چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ محققین نے کہا ہے کہ نیند میں چلنے کی بیماری اگر سن بلوغت تک برقرار رہے تو یہ معمول کی زندگی کے لئے کافی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

نیند میں چلنے والوں کی خطرناک سرگرمیاں

نیند میں چلنے والے اکثر گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر کا دروازہ کھول لیتے ہیں اور گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیونگ کی کوشش کر تے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے سنگین کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جن میں نیند میں چلنے والے کسی کا قتل کر دیتے ہیں۔ تاہم ایسے واقعات کافی کم رونما ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ وجد یا مد ہوشی کے عالم میں چلنے کی بیماری کی وجہ عموماً بہت زیادہ تھکاوٹ اور دباؤ بنتی ہے۔ نیند میں چلنے کا عمل عموماً رات کے پہلے پہر دیکھنے میں آتا ہے۔ بستر پر لیٹتے ہی گہری نیند سونے والے ایسے مریض جنہیں خواب نہیں آتے، وہ لیٹنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اُٹھ کر چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح جب یہ افراد بیدار ہوتے ہیں تو انہیں رات کے واقعات بالکل یاد نہیں رہتے۔

امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی آف میڈیسن سے منسلک ڈاکٹر کرسٹینا گورنیٹ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی اس تحقیق کے لئے نیند میں چلنے کے عادی افراد کی ایک بڑی فیملی کی مدد لی اور اس پر ریسرچ کی۔

اس خاندان کی سب سے چھوٹی فرد ایک 12 سالہ بچی، جس کا نام حنا ہے سب سے زیادہ اس بیماری کا شکار ہے۔ یہ اکثر و بیشتر نیند سے اُٹھ کر چلنا شروع کر دیتی ہے اورچلتے چلتے گھر سے باہر چلی جاتی ہے۔ اس گھرانے میں چار نسلوں سے یہ بیماری چلی آ رہی ہے۔

Symbolbild Gähnen Müdigkeit Schlaf

رات کی نیند میں خلل کی وجہ سے دن بھر تھکن طاری رہتی ہے

اس 22 رکنی فیملی کے نو ممبر اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے ایک حنا کے چچا ہیں، جو رات کو اُٹھ کر آٹھ جوڑے موزے ڈھونڈ کر پہن لیتے ہیں جبکہ ان کے دیگر رشتہ دار رات کو نیند سے اُٹھ کر چلنے کے دوران اکثر کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر بھی جاتے ہیں اور انہیں اکثر زخم آتے ہیں۔

محققین نے اس پوری فیملی کے ممبران کے لعاب کے سیمپل لیے اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا۔ اس سے پتہ چلا کہ اس پورے خاندان میں یہ موروثی بیماری کروموسوم 20 کے نقص کے سبب پائی جاتی ہے۔ دلچسپ امر یہ کہ تحقیق سے محققین نے یہ بھی پتہ چلا لیا کہ اس خاندان کے چند افراد میں اپنی نئی نسل تک اس بیماری کو پہنچانے کے 50 فیصد امکانات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح خاندان کے جس فرد میں بھی یہ نقص ڈی این اے سے منتقل ہوگا وہ نیند میں چلنے کی بیماری میں مبتلا ہوگا۔

محققین ابھی اس بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں تاہم اب تک کی ریسرچ کے بعد ان کا خیال ہے کہ غالباً Adenosine Deminase وہ جین ہے جو اس بیماری کی وجہ بنتا ہے۔ ڈاکٹر کرسٹینا گورنیٹ نے تاہم کہا ہے کہ اس امر کے امکانات کافی زیادہ ہیں کہ اس بیماری کا سبب متعدد جینز بھی ہو سکتے ہیں تاہم اب تک ایک کا پتہ لگایا جا چکا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس