1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نیند تو کانٹوں کی سیج پر بھی آ ہی جاتی ہے

آسٹریلیا میں سڈنی یونیورسٹی کے محقق نکولس گلوزیئر کے مطابق روزمرہ کی تمام تر مصروفیات کے باوجود کسی شخص کی پرسکون نیند کے دورانیے میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی ہے۔

default

ان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ لوگوں کی پرسکون نیند کے دورانیے میں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ گلوزیئر کہتے ہیں کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ لوگ مصروفیات کے باعث کم سو رہے ہیں۔ ان کے مطابق نیند انسانی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس میں بنیادی طور پر کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

NO FLASH Symbolbild Traum Schlaf

پرسکون نیند انسانی صحت کے لیے ازحد ضروری ہے

گلوزیئر اور ان کی ٹیم نے آسٹریلیا کے شماریات بیورو سے حاصل شدہ اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سن 1992 میں ایک اوسط بالغ آدمی کی نیند کا دورانیہ آٹھ گھنٹے اور بیس منٹ تھا، اسی طرح 1997 میں یہی دورانیہ آٹھ گھنٹے اور تینتیس منٹ تھا جبکہ 2006 میں ایک اوسط شخص کی نیند کا دورانیہ آٹھ گھنٹے اور تیس منٹ تھا۔

ان اعداد و شمار کی روشنی میں گلوزیئر کہتے ہیں کہ آج کے دور میں ایک چالیس سالہ آسٹریلوی باشندے کی نیند کسی بھی اعتبار سے آج سے بیس برس قبل کے اسی عمر کے باشندے کے مقابلے میں کم نہیں ہے۔ ان تحقیقی نتائج کو میڈیکل جرنل آف آسٹریلیا کے رواں ماہ کے شمارے میں شائع کیا گیا ہے۔

Flash-Galerie Schlafende Frau mit Mobiltelefon

اسمارٹ فونز، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور کمپیوٹر گیمز بھی نوجوانوں کی نیند میں خلل کا باعث نہیں بن سکتے

والدین کے لیے بھی یہ امر حیرت کا باعث ہے کہ ان کے نو عمر بچوں کی نیند کا دورانیہ بھی کافی زیادہ ہوتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی بشمول اسمارٹ فونز، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور کمپیوٹر گیمز بھی ان کی نیند میں خلل کا باعث نہیں بن سکتے۔ گلوزیئر کہتے ہیں کہ بہت کم ایسے اعداد و شمار ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوان بالغ افراد معمول سے کم سوتے ہیں۔

گلوزیئر کے مطابق نوجوان بالغ افراد ویک اینڈ پر معمول سے زیادہ سوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرسکون نیند انسانی صحت کے لیے ازحد ضروری ہے۔ اس سے پہلے گلوزیئر کی جانب سے کی گئی تحقیق کے دوران یہ دیکھا گیا تھا کہ رات کو آٹھ سے نو گھنٹے سونے والے بالغ افراد کی نسبت پانچ گھنٹوں سے کم سونے والے نوجوانوں میں دماغی صحت متاثر ہونے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: حماد کیانی

DW.COM