1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

نیم حکیم اپنی دوا کے ہاتھوں تین مریضوں سمیت ہلاک

جنوبی بھارت کے ایک گاؤں میں موبائل نیم حکیم نے زہریلی دوا پلا کر اپنے سمیت چار انسانی جانیں لے لیں۔ یہ نیم ڈاکٹر ذیابیطس کے مرض کی دوا فروخت کر رہا تھا۔

جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو کے ایک گاؤں میں نیم حکیم نے جڑی بوٹیوں سے تیارکردہ دوا کی فروخت کے سلسلے میں اپنے مریضوں کو متاثر کرنے کے لیے پہلے کڑوی کسیلی دوا خود پی اور پھر اُس کی دیکھا دیکھی چار اور مریضوں نے بھی اس دوا کی معدے میں اتار لیا۔  نیم حکیم نے یہ دوا ذیابیطس (شوگر) اور ہاپپرٹینشن کے لیے تیار کی تھی۔

اس دوا نے الٹا اثر کیا۔ عطائی ڈاکٹر اور مریضوں کو زہریلی دوا کی وجہ سے قے آنے لگیں اور پانی کی شدید کمی سے وہ پہلے کمزور ہوئے اور پھر بے ہوش ہونے لگے۔ ان پانچوں کو فوری طور پر قریبی قصبے کے ہسپتال تک پہنچا دیا گیا، جہاں نیم حکیم اپنے تین مریضوں سمیت ہلاک ہو گیا۔ چوتھا مریض جانکنی کی حالت میں ہے اور اُس کی حالت نازک خیال کی جاتی ہے۔

یہ عطائی ڈاکٹر تامل ناڈو کے قصبے ٹینکسائی میں باقاعدہ دکان رکھتا تھا لیکن مریضوں کی آسانی کے لیے علاج معالجے اور دوا دینے کے لیے قصبے کے قریبی دیہات کا باقاعدگی سے چکر لگایا کرتا تھا۔

Alternative Medizin im Irak (DW)

برصغیر پاک و ہند کا روایتی طریقہٴ علاج عدم تحقیق اور سخت ضابطوں کی وجہ سے نیم حکیموں کے ہاتھوں بدنام ہو چکا ہے

 اُس نے مختلف جڑی بوٹیوں کے مرکب سے ذیابیطس اور ہائپرٹینشن کے لیے ایک نئی دوا تیار کی لیکن اِس کا اثر انتہائی ہلاکت خیز ثابت ہوا۔ ایسا اندازہ لگایا گیا ہے کہ اُس نے کہیں سے نسخہ پڑھا اور جڑی بوٹیوں سے دوا تیار کرنے کی کوشش کی جو غلط بن گئی۔ جڑی بوٹیوں کی شناخت میں غلطی ہوئی اور کوئی زہریلا پودا اِس دوا میں شامل کر کے زندگی لینے والا زہر تیار کر دیا۔ مقامی پولیس نے عطائی ڈاکٹر کا نام متھوپانڈی بتایا ہے۔

پولیس کی تفتیش کے مطابق متھوپانڈی ایک جعلی ڈاکٹر بنا پھرتا تھا اور حقیت میں وہ ماضی میں جرائم کی کئی وارداتوں میں ملوث رہ چکا تھا۔ اُس کو چوری چکاری کی عادت تھی۔ پولیس عدم ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی آگے نہیں بڑھا سکی تھی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد اب پولیس اُس کی میڈیکل تعلیم کی چھان بین کرنے گی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ پاکستان اور بھارت میں نیم حکیم چھوٹے قصبوں اور دیہات میں اپنے مطب بنائے ہوئے ہیں اور ایسے مطب موت کا گھر قرار دیے جاتے ہیں۔ ایسے نیم حکیم خود کو یونانی اور ایورویدک طریقہٴ علاج کے ماہر تسلیم کرتے ہیں۔ کئی معروف حکیم کہتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند کا روایتی طریقہٴ علاج عدم تحقیق اور سخت ضابطوں کی وجہ سے نیم حکیموں کے ہاتھوں بدنام ہو چکا ہے۔