1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

نیمار نے بارسلونا کو خیرباد کہنے کا حتمی فیصلہ کر لیا

بارسلونا کلب نے تصدیق کی ہے کہ نیمار نے کلب چھوڑنے کی درخواست پیش کی ہے۔ کلب کے مطابق فارورڈ کھلاڑی نیمار نے اپنی درخواست میں بارسلونا کلب کے تمام کھلاڑیوں کو الوداع بھی کہہ دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پچیس برس کے برازیلی فٹ بالر نیمار، فرانسیسی فٹ بال کلب پیرس سینٹ جَرمین میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ بارسلونا نے نیمار کی اپنے کلب سے منتقلی کے لیے 222 ملین یورو کی خطیر رقم کا مطالبہ رکھا ہے۔ اب نیمار نے کلب سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو پیرس سینٹ جَرمین کے ساتھ طے کرے۔

برازیل کے اسٹار فٹ بالر نیمار زخمی

چيمپئنز ليگ ميں سب سے زيادہ گول، اعزاز ليونل ميسی کے نام

میسی کی شادی، مشہور شخصیات کا اجتماع

بارسلونا نے بتایا کہ نیمار جونیئر اپنے والد کے ہمراہ بدھ دو اگست کو دفتر میں آئے اور کلب چھوڑنے کی درخواست دی۔ کلب کے مطابق نیمار معمول کے پریکٹس سیشن کے لیے آئے اور دفتر میں اپنی درخواست دینے کے بعد ساتھی کھلاڑیوں کو بتایا کہ وہ کلب چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

پیرس سینٹ جرمین اگر اتنی بڑی رقم ادا کرنے پر راضی ہو جاتی ہے تو یہ ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔ کسی کھلاڑی کی ایک کلب سے منتقلی کی ریکارڈ ادائیگی گزشتہ برس مانچسٹر یونائیٹڈ نے کی تھی۔

برطانوی فٹ بال کلب نے پال پوگبا کے حصول کے لیے 111 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔ مختلف یورپی فٹ بال کلبوں نے اتنی بڑی رقم طلب کرنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

Brasilien | Pele und Neymar (picture-alliance/dpa)

برازیل کے لیجنڈری کھلاڑی پیلے اور آج کے مشہور کھلاڑی نیمار

نیمار کا بارسلونا کو خیرباد کہنے کا اعلان کلب کے نئے سربراہ ایرنیسٹو والویری کے ابتدائی ہفتوں میں سامنے آیا ہے۔ نیمار نے یہ اعلان چین میں فٹ بال کے فروغ کا دورہ مکمل کرنے کے فوری بعد کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بارسلونا کلب کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اتنی بڑی رقم طلب کرنے پر یورپی فٹ بال کلبوں کی جانب سے اظہار بےچینی سامنے آیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ بارسلونا نے 222 ملین یورو کی رقم یک مُشت طلب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ہسپانوی کلبوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو بھی ہسپانوی فٹ بال کے نگران ادارے لا لیگا کے مرتب کردہ شدہ اصولوں اور ضوابط کی روشنی میں طے کیا جانا ضروری ہے۔

DW.COM