نیتن یاہو کا اہم دورہء بھارت، بڑا تجارتی وفد ہم راہ | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیتن یاہو کا اہم دورہء بھارت، بڑا تجارتی وفد ہم راہ

اسرائیلی وزیر اعظیم نیتن یاہو ایک بڑے تجارتی وفد کے ہم راہ اگلے ہفتے بھارت کا دورہ شروع کر رہے ہیں۔ اس چھ روزہ دورے کے دوران ان کے ہم راہ 130 اہم اسرائیلی کاروباری شخصیات بھی ہوں گی۔

ایک اعلیٰ اسرائیلی حکومتی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے سے متعلق معاہدے ہوں گے، جب کہ اس دوران نیتن یاہو بھارت کو اسرائیلی دفاعی ساز و سامان کی فروخت کو بھی حتمی شکل دیں گے۔

’نریندر مودی فلسطین کا دورہ کریں گے‘

بھارت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی سودا منسوخ کر دیا

مودی اسرائیل میں: ننگے پاؤں چہل قدمی اور اربوں کے سودے

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے ایشیا گیلاڈ کوہین کے مطابق اتوار چودہ جنوری سے شروع ہونے والے اس چھ روزہ دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہو گی۔

بھارت نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کے اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کیے جانے کے خلاف پیش کردہ ایک قرارداد میں امریکی صدر کے اس فیصلے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اسرائیل نے مختلف ممالک بہ شمول بھارت نہایت سرگرمی سے کوششیں کی تھیں کہ وہ اسرائیل کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ تاہم بعد میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بدھ دس جنوری کے روز کہا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف ووٹ دیے جانے کے باوجود دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہو گی۔

صحافیوں سے بات چیت میں نیتن یاہو نے کہا، ’’مجھے تو یہی اچھا لگتا کہ اگر ووٹ ہمارے حق میں ہوتا۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ اس سے بھارت اور اسرائیل کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات پر کوئی واضح فرق پڑے گا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:56

اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے والی فلسطینی لڑکی سوشل میڈیا اسٹار

بھارتی وزارت دفاع نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بھارت اسرائیل سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے 131 میزائل خریدے گا۔ بَرک نامی میزائل اسرائیل کے رافائل ایڈوانس ڈیفنس سسٹمز کا تیار کردہ ہے اور یہ میزائل بھارت کے پہلے طیارہ بردار بحری بیڑے میں استعمال کیے جائیں گے۔ مگر بھارتی وزارت دفاع کے مطابق نئی دہلی نے اسرائیل سے پانچ سو ملین ڈالر کے ٹینک شکن میزائلوں کی خریداری منسوخ کر دی ہے۔ یہ ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل بھی اسرائیلی ہتھیار ساز ادارے رافائل ہی کے تیار کردہ تھے۔ بتایا گیا ہےکہ رافائل کمپنی کے متعدد اہم عہدیدار بھی اس دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم کے ہم راہ ہوں گے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے تاہم اس بابت مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات