1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’نیتن یاہو پر اعتماد نہیں رہا‘ موشے یالون

اسرائیل کے وزیر دفاع موشے یالون نے جمعے کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے بقول وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر سے ان کا اعتماد ختم ہو گیا ہے کیونکہ نیتن یاہو انہیں اس منصب سے ہٹانا چاہتے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ 18 مئی کو اعلان کیا تھا کہ اپنی مخلوط حکومت میں انہوں نے ایک اور جماعت کو شامل کر لیا ہے۔ اس سے ان کی مراد ایوگڈور لیبرمن کی انتہائی قدامت پسند یسرائیل بیت نو جماعت تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے بدھ کے دن ہی لیبرمن کو وزارت دفاع کا قلمدان سونپنے کا عندیہ بھی دیا۔ نیتن یاہو کے اس اعلان کے بعد موجودہ وزیر دفاع موشے یالون نے آج اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا، ’’میں نے وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان کے رویے اور سیاسی حالات میں ہونے والی تازہ تبدیلی کے وجہ سے ان پر اعتماد میں کمی ہوئی ہے۔ میں حکومت اور اپنی پارلیمانی نشست سے دستبردار ہو رہا ہوں اور اپنی سیاسی زندگی میں بھی وقفہ لے رہا ہوں۔‘‘

Avigdor Lieberman in Jerusalem 11.11.2013

صرف 27 فیصد اسرائیلی وزیر دفاع کے طور پر لیبرمن کو دیکھنا چاہتے ہیں

اسرائیل میں وزیر دفاع کا منصب انتہائی اہم تّصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یالون کے جانے سے داخلی سطح پر نیتن یاہو کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ جبکہ مغربی ممالک کا بھی اسرائیلی حکومت پر اعتماد کم ہو سکتا ہے۔ موشے یالون اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں اور انہی کی کوششوں کے وجہ سے واشنگٹن اور یروشلم کے باہمی روابط قدرے استوار رہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیتن یاہو امریکی صدر باراک اوباما کی متعدد پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے ان دونوں رہنماؤں کے تعلقات بھی کبھی خوشگوار نہیں رہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے موشے یالون کی استعفے پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یسرائیل بیت نو پارٹی کی شمولیت کے بعد نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو 120 رکنی پارلیمان میں 67 نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل ان کے پاس صرف61 ارکان تھے۔ ایک نجی ٹیلی وژن کےجائزے کے مطابق51 فیصد اسرائیلی یہودی وزیر دفاع کے طور پر یالون کے حق میں ہیں جبکہ 27 فیصد وزیر دفاع کے طور پر لیبرمن کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

امریکا کی جانب سے ابھی تک اسرائیلی کابینہ میں ہونے والی اس تبدیلی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ایک مصری سفارت کار نے لیبرمن کو وزیر دفاع بنانے کی تجویز پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔