1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیب کی طرف سے طلبی، کیا نواز شریف کی ساکھ مزید خراب ہو گی؟

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق کل بروز جمعہ اٹھارہ اگست کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کو ملک کے سب سے بڑے بدعنوانی کیس کے سلسلے میں طلب کر لیا ہے۔

اٹھائیس جولائی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ ساتھ ہی نیب کو یہ احکامات بھی جاری کیے گئے تھے کہ وہ نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن  اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز، داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کریں۔ 

اب سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق نیب حکام  کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے اور اس حوالے سے شریف خاندان کو تفتیش کے لیے نیب کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

 پاکستانی میڈیا کے مطابق ان افراد سے ان کے اثاثوں سے متعلق بھی سوالات پوچھے جائیں گے۔ دریں اثناء پاکستانی میڈیا میں ایسی غیر مصدقہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سابق وزیر اعظم کے بیٹے اپنے بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے نیب کے سامنے پیش ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

پاکستانی ویب سائٹ ایکسپریس ٹربیون نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق نیب کے تفتیشی افسران شریف فیملی سے العزیزیہ اسٹیل ملز کے حوالے سے پوچھ گچھ کریں گے۔

Pakistan Oberster Gerichtshof in Islamabad (Reuters/C. Firouz)

اٹھائیس جولائی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا

قبل ازیں سپریم کورٹ نے نیب کو یہ احکامات جاری کیے تھے کہ وہ ساٹھ دنوں کے اندر اندر پاناما کیس میں ملوث افراد سے تفتیش کرتے ہوئے اس کے سامنے حتمی رپورٹ پیش کرے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نواز شریف کا بیان لاہور میں ریکارڈ کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ پہلے ہی اس کیس میں نیب کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے ایک جج کو مقرر کر چکی ہے۔

دوسری جانب سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے پندرہ اگست کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست جمع کرا دی تھی، جس میں انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

پاناما کیس، آغاز سے اختتام تک، کب کیا ہوا؟

دوسری طرف سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد بھی اپنی سیاسی جماعت پر گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایک اہم ساتھی خاقان شاہد خان کو وزیر اعظم کا عہدہ سونپ دیا ہے اور حقیقی طور پر تمام فیصلے وہ خود ہی کر رہے ہیں۔ ان ناقدین کے مطابق یوں نواز شریف ملکی عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں۔

دریں اثناء نواز خاندان کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں والیم دس پر مبنی معلومات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق نیب نے والیم دس بھی حاصل کر لیا ہے اور اس طرح نواز خاندان کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

 قانونی ماہرین کے مطابق والیم دس میں موجود ’ثبوت‘ نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

DW.COM