نیا سال، یورپ مہاجرین کے سیلاب کی نئی لہروں کی زد پر | مہاجرین کا بحران | DW | 01.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

نیا سال، یورپ مہاجرین کے سیلاب کی نئی لہروں کی زد پر

سخت سردی، تلخ ہوائیں اور شدید سردی جنگی تنازعات اور غربت کی وجہ سے فرار پر مجبور ہو کر یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کے راستے میں کم ہی حائل ہوتی دکھائی دی ہیں۔ یورپ اس نئے برس بھی مزید مہاجرین کی آمد کی توقع کر رہا ہے۔

2016 کی علی الصبح بھی مہاجرین کی کشتیاں یورپی ساحلوں کا رخ کرتی دکھائی دیں۔ یہ افراد بلقان ریاستوں سے شمالی اور مغربی یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ موسم سخت ہے، مگر نئی زندگی شروع کرنے کی امیدیں اس پر غالب دکھائی دیتی ہیں۔

سن 2015ء میں ایک ملین سے زاید افراد یورپ پہنچے دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کا یہ سب سے سنگین بحران درپیش ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ایک طرف تو یورپی اتحاد کو سخت جانچ کا سامنا ہے اور دوسری جانب یورپی ممالک میں سرحدوں کو غیرموثر رکھنے کا وہ خیال بھی ایک شدید امتحان سے دوچار ہے۔

گزشتہ برس قریب 38 سو مہاجرین یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہء روم کی تندوتیز موجوں کی نذر ہو گئے، تاہم ان ہلاکتوں اور شدید تکالیف سے مہاجرین کے سیلاب میں کمی آتی دکھائی نہیں دیتی۔

Tausende Flüchtlinge in Piräus angekommen

مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یونان پہنچی ہے

یہ افراد شکستہ کشتیوں پر کشتیوں کی استطاعت سے زیادہ تعداد میں بیٹھ کر بحیرہء روم کی موجوں کا مقابلہ کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی اسی تناظر میں بحیرہء روم میں اپنے بحری گشت کو وسعت دی ہے، جب کہ ترکی بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے آغاز پر رضامند ہے۔ تاہم اس بحران کے براہ راست شکار ممالک خصوصاﹰ یونان اور اٹلی کا موقف ہے کہ اگر صورت حال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہ آئی، تو اس برس مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

یونانی ساحلوں پر گزشتہ برس ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد مہاجرین پہنچے اور ان تمام کے تمام نے ترک علاقوں سے یونان کے لیے سفر اختیار کیا۔ دوسری جانب لیبیا کی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھا کہ وہاں انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے اپنا کاروبار وسیع کر چکے ہیں اور وہاں سے بھی لاکھوں مہاجرین اطالوی جزائر کا رخ کر رہے ہیں۔

یونانی وزیر برائے امور مہاجرین آئونیس موزالاس کا کہنا ہے، ’’مہاجرین کا سیلاب بدستور جاری ہے۔ ہر اچھے دن، جب سردی کی شدت کسی حد تک کم ہوتی ہے، ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں انہوں نے مزید کہا، ’’اس مسئلے سے واضح ہوتا ہے کہ ترکی اس بہاؤ کو روکنے کی صلاحیت کا حامل نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ترکی چاہتا نہیں، مگر اس کے ساحلوں پر انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے سرگرم ہیں۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مہاجرین کے بہاؤ پر یورپی ردعمل اور اقدامات بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہے ہیں اور مختلف ممالک نے اپنے اپنے طور پر اپنی اپنی تشویش سے مختلف طریقوں سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ ممالک اپنی سرحدوں پر کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل متعارف کروا چکے ہیں، تو کچھ نے مہاجرین کو سرے سے قبول کرنے سے ہی انکاری ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان جیسے ممالک کا ملک بدری کا سامنا کرنے والے اپنے شہریوں کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنا بھی یورپ کے لیے ایک پریشانی کا باعث ہے۔

یونانی وزیر برائے مہاجرین کا کہنا ہے، ’اگر ترکی سے شروع ہونے والے مہاجرین کے اس سیلاب کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہ کئے گئے، تو یورپ کبھی اس مسئلے سے نکل نہیں پائے گا۔ یقیناﹰ نیا سال ایک مشکل سال ہو گا۔‘‘