1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیا سال، امیدیں بھی اور چیلنجز بھی

دنیا بھر میں نئے سال کو زبردست آتش بازی، قہقہوں اور مسکراہٹوں اور نئی امیدوں کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا جبکہ اس برس دنیا کی بہت سے ممالک کو مختلف طرح کے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔

گزشتہ روز نیوزی لینڈ سے نئے سال کی تقریبات کا آغاز ہوا، جو براعظم شمالی اور جنوبی امریکہ تک وقت کے بدلاؤ کے ساتھ منائی جاتی رہیں۔ آسٹریلیا کے بعد ایشیا، پھر افریقہ اور یورپ اور پھر شمالی اور جنوبی امریکہ کے مختلف ممالک میں نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے سرکاری اور نجی سطح پر رنگا رنگ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ تاہم مبصرین کے مطابق مسکراہٹوں اور قہقہوں کے ساتھ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی بے شمار چیلنجز بھی موجود ہیں، جن کے سائے اس تمام برس محسوس کئے جاتے رہیں گے۔

Flash-Galerie Silvester 2012 Indien

بھارت میں نئے سال کی ایک تقریب کا منظر

دنیا بھر میں ایک طرف تو قدرتی آفات نے گزشتہ برس مختلف ممالک کو مصیبتوں کا شکار بنائے رکھا، تو دوسری جانب یورپی مالیاتی بحران کی وجہ سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں سستی رہی، جس کا نتیجہ دنیا بھر میں مجموعی طور پر بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ برآمد ہوا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے نئے سال کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ سن 2011ء مالیاتی اعتبار سے کچھ بہتری کا سال رہا، تاہم یہ نیا برس کچھ مشکلات کا حامل ہو گا۔ تاہم انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جرمنی یورو کرنسی کے استحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

روس میں شدید سیاسی بے چینی کے باوجود وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن نے اپنی قوم کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نیا برس ترقی اور خوشحالی کا سال ہو گا۔

Flash-Galerie Silvester 2012 Berlin

جرمن دارالحکومت میں آتشبازی کا شاندار مظاہرہ

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی، جو عوامی جائزوں کے مطابق رواں برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنی حریف سوشلسٹ جماعت سے شکست کھاتے دکھائی دیتے ہیں، نے خبردار کیا کہ یورپی بحران ابھی ختم نہیں ہوا تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل یقیناً بہتر ہو گا۔ انہوں نے نئے برس کو خطرات مگر مواقع کا سال قرار دیا۔

نئے برس کی تقریبات میں آتش بازی کا پہلا مظاہرہ آک لینڈ اور سڈنی میں ہوا، جہاں 1.5 ملین سے زائد افراد نے آتشبازی کے اس مظاہرے کو دیکھا۔

جرمن دارالحکومت برلن کے مشہور برانڈبرگر گیٹ کے آس پاس تقریباً ایک ملین انسانوں نے آتش بازی کے شاندار مناظر دیکھے۔ اس موقع پر لائیو بینڈز نے پرفارم بھی کیا۔

بعد ازاں نیویارک سمیت امریکہ بھر میں نئے سال کے استقبال کے لیے رنگارنگ تقریبات کا آغاز ہوا۔ نیویارک میں اس حوالے سے ایک کرسٹل پینل بال سن 1907ء سے ہر برس کے آغاز پر گرائی جاتی ہے۔ اس بار بھی اس موقع پر موجود ہزارہا افراد نے یہ منظر دیکھا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM