1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ نہ پوچھو، نہ بتاؤ‘ امریکی ہم جنس پرست فوجیوں کے خلاف قانون ختم

امریکی سینیٹ نے امریکی فوج میں ہم جنس پرستوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ دو تہائی امریکی سینیٹر موجودہ امتیازی قانون کے خلاف تھے۔

default

امریکی فوج سے اب تک قریب چودہ ہزار ہم جنس پرستوں کو نکالا جا چکا ہے

امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق اس قانون کوامریکی صدر باراک اوباما کی فتح قرار دیا جا ریا ہے۔ سن دوہزار آٹھ میں انتخابی مہم کے دوران صدر اوباما نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ ہم جنس پرست فوجیوں کو اپنی شناخت چھپانا نہیں پڑے گی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک یوں لگتا تھا کہ کانگریس میں ریپبلکنز کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا اور دائیں بازو کے یہ قدامت پسند سیاستدان سینیٹ میں ہونے والی اس ووٹنگ کو اگلے برس تک مؤخر کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

سابق صدارتی امیدوار جان مکین بھی یہ چاہتے تھے کہ موجودہ قانون ختم نہ ہو۔ لیکن جان مکین ہی کی پارٹی سے تعلق رکھنے والی سوسن کولنز اس ووٹنگ کی کامیابی کے بعد بہت خوش تھیں۔ اس قانون کے خاتمے کے لئے آٹھ ریپبلکن سینیٹروں نے باراک اوباما کا ساتھ دیا ہے۔ سوسن کولنز کہتی ہیں،’’یہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لئے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ لیکن میں اور میرے ساتھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمیں ہر اس پڑھے لکھے فرد کوخوش آمدید کہنا چاہیے، جو ہماری ملکی وردی پہن کر مختلف جنگوں میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ میں ان تمام ہم جنس پرست مرد وخواتین کی شکر گزار ہوں، جو عراق اور افغانستان میں جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘

US Armee Training Afghanistan

عراق اور افغانستان میں تعینات کئی فوجی ہم جنس پرست ہیں

باراک اوباما اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم جنس پرستوں سے متعلق امتیازی سلوک ’’غیر منصفانہ اور ناقابل برداشت‘‘ ہے۔ امتیازی سلوک سے متعلق قانون کے خاتمے کو صدر اوباما کی سیاسی اور ثقافتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر مارک اوڈال کہتے ہیں:’’اس قانون سے متعلق سینٹ میں ہونے والی بحث تاریخ کا حصہ ہو گی۔ اگر نوجوان مرد اور عورتیں محب وطن ہیں اور ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ تو انہیں اپنی زندگی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہوئے نہیں گزارنی چاہیے۔‘‘

ہم جنس پرستوں سے متعلق موجودہ قانون ’’نہ پوچھو، نہ بتاؤ‘‘ سابق صدر بل کلنٹن کے دورحکومت میں بنایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت کسی کو بھی یہ بتانے اور پوچھنے کی اجازت نہیں تھی کہ وہ ہم جنس پرست ہے یا نہیں۔ لیکن اگر کوئی خاتون یا مرد فوجی یہ بتا دے کہ وہ ہم جنس پرست ہے تو اسے فوج سے نکال دیا جاتا تھا۔ ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے گزشتہ سترہ برسوں میں 13 ہزار پانچ سو مردوں اور خواتین کو امریکی فوج سے نکالا جا چکا ہے۔ لیکن اب نئے قانون کی وجہ سے کسی کو بھی ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے نہیں نکالا جائے گا۔

رپورٹ: زلکےہاسلمان/امتیاز احمد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM