1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’نہ مر رہا ہوں، نہ کہیں جا رہا ہوں،‘ صدر موگابے کا اعلان

افریقی ملک زمبابوے کے ترانوے سالہ صدر رابرٹ موگابے نے کہا ہے کہ وہ نہ تو مر رہے ہیں اور نہ ہی کہیں جا رہے ہیں۔ موگابے انیس سو اسّی سے زمبابوے کے صدر چلے آ رہے ہیں اور اس ملک کی اقتصادی حالت انتہائی خراب ہے۔

default

رابرٹ موگابے انیس سو اسی سے زمبابوے کے صدر چلے آ رہے ہیں

افریقی ریاست زمبابوے کے شہر چنہوئی سے ہفتہ انتیس جولائی کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر اگرچہ کئی برسوں سے یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ قریب چار عشروں سے برسراقتدار موگابے اپنے ملک کو مسلسل تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں تاہم خود صدر رابرٹ موگابے نے آج کہا کہ وہ ’نہ تو مر رہے ہیں، نہ ہی اپنے عہدے سے علیحدہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی کہیں جا رہے ہیں‘۔

Simbabwe Dürre (picture-alliance/AP Photo/T. Mukwazhi)

زمبابوے کو مسلسل خشک سالی اور اقتصادی بدحالی کا سامنا ہے

براعظم افریقہ کے علاوہ دنیا کے طویل ترین عرصے سے برسراقتدار حکمرانوں میں شمار ہونے والے رابرٹ موگابے اس دور سے اپنے ملک کے صدر چلے آ رہے ہیں، جب 1980ء میں زمبابوے نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔

برطانیہ کی اس سابق نوآبادی میں چنہوئی کے شہر میں اپنے ہزارہا حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر موگابے نے آج کہا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ کوئی دوسرا سیاستدان اتنے بڑے سیاسی قد کاٹھ کا ہے ہی نہیں، جو میرے جانشین کے طور پر یہ (صدارتی) ذمےد اریاں انجام دے سکے۔‘‘

زمبابوے میں پانی کی غیرقانوی فروخت عروج پر

زمبابوے کی حکومت نے ملک کو ’آفت زدہ‘ قرار دے دیا

افریقی یونین کے نئے سربراہ: رابرٹ موگابے

روئٹرز کے مطابق موگابے کی عمر اس وقت 93 برس ہے، وہ 38 برسوں سے زمبابوے کے صدر چلے آ رہے ہیں اور ان کے ملک میں عوام اس لیے اپنے اس صدر کی صحت پر بڑی تشویش کے ساتھ نظریں جمائے بیٹھے ہیں کہ کسی واضح جانشین کی تقرری کے بغیر رابرٹ موگابے کی اگر اچانک موت ہو گئی، تو یہ ملک شدید حد تک بدامنی اور انتشار کا شکار ہو جائے گا۔

Simbabwe Geldschein Inflation 100 Milliarden Dollar

زمبابوے میں جاری کردہ ایک کھرب ڈالر کا کونسی نوٹ

روئٹرز نے مزید لکھا ہے کہ موگابے نے اپنے آبائی صوبے کے شہر چنہوئی میں ہزارہا سیاسی حامیوں سے خطاب کے دوران یہ بھی کہا، ’’ابھی حال ہی میں ڈاکٹروں نے جب میرا معائنہ کیا، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ میرے جسم میں ہڈیوں کا نظام انتہائی مضبوط ہے۔‘‘

گزشتہ کئی عشروں کے دوران بار بار کی خشک سالی، بہت زیادہ بے روزگاری اور مسلسل اقتصادی تنزلی کی وجہ سے زمبابوے کی معیشت کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ حکومت کو کئی سال پہلے ہی ناقابل یقین حد تک زیادہ مالیت کے کرنسی نوٹ تک چھاپنا پڑ گئے تھے۔

ان میں ملکی کرنسی میں بہت زیادہ مالیت کے ایک کھرب یا 100 ارب ڈالر تک کے وہ نوٹ بھی شامل ہیں، جن کی ہزاروں گنا کی شرح والے افراط زر کی وجہ سے داخلی طور پر اور بین الاقوامی منڈیوں میں مالیاتی قدر بمشکل چند امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔

DW.COM