1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

نہر سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں کمی

اہم وجہ صومالی قزاقوں کا خطرہ ہے۔ اگرچہ افریقہ کا چکر کاٹ کر منزل تک پہنچنے میں 10 دن زیادہ لگتے ہیں لیکن اس روٹ پربحری قزاقی کا خطرہ کم ہے۔

default

یہاں سے گزرنے کے لئے جہازوں کو کتنا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اس کا انحصار جہاز پر لدے سامان پر ہوتا ہے۔

رنگین خانوں میں بٹی دیوار کی طرح ایک عظیم Containership آہستہ آہستہ اسماعیلیہ کےساحلی علاقے سےگزر کر آگے بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ یہ جہاز ساحل سے صرف پچاس میٹر دور ہے لیکن اس کے انجنوں کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ مغرب کی جانب کھجور اور آم کے پیڑ دکھائی دیتے ہیں جبکہ مشرق کی جانب صحرائے سینائی پھیلا ہے۔ درمیان میں نہر سوئز ہے جس کا پانی گہرا نیلا ہے۔

نہر کے کنارے ایک اونچی عمارت کھڑی ہے جہاں سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جہاز رانی شعبے کے انچارج Mohammad Abdelkader نے نیوی گیشن سنٹر میں نصب ایک بڑی سکرین دکھاتے ہوئے کہا۔:’’ اس سکرین پرہم راڈار تصویروں کی مدد سے نہر کے کسی بھی حصے کو چیک کر سکتے ہیں۔ شمال کی طرف سے آنے والے بحری جہازوں کو Bitter Lake میں اس وقت تک رکنا پڑتا ہے جب تک کہ جنوب سے آنے والا جہازوں کا قافلہ گزر نہیں جاتا۔‘‘

جنوب کی پورٹ سعید سے شمال کی سوئز بندرگاہ تک پہنچنے میں جہازوں کو اوسطا ً 14 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کے الٹ سفر میں اس قدر وقت نہیں لگتا۔ کیونکہ جہازوں کو انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ ہر روز تین قافلے نہرسے گزرتے ہیں۔ تقریبا ً 60 جہاز روزانہ نہرسوئز سے گزر کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔

یہاں سے گزرنے کے لئے جہازوں کو کتنا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اس کا انحصار جہاز پر لدے سامان پر ہوتا ہے۔ سوئزکینال انتظامیہ کے ڈائریکٹر Ahmad Ali Fadel نے بتایا:’’ایک جہاز جو نہرسوئزسے گزرتا ہے،اسے منزل تک پہنچنےمیں کم وقت لگتا ہے، اس کا ایندھن بھی کم خرچ ہوتا ہےاور اب اسے کرایہ بھی پہلے کے مقابلےمیں کم ادا کرنا پڑتا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں سستی ہونے کی وجہ سے بہت سے جہاز اب کیپ ٹاؤن کے متبادل روٹ سے گزر رہے ہیں۔ ہمیں ایک طرح سے کاروباری مقابلے کا سامنا ہے جو پہلے نہیں تھا۔‘‘

اس کی سب سے بڑی وجہ بحری قزاقی کے واقعات ہیں Ahmad Ali Fadel نے کہا کہ بحری قزاق دلیر ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے وہ صومالیہ کے ساحلی علاقوں تک ہی کاروائیاں کرتے تھے، اب ساحل سے 50 سمندری میل دور تک مار کرنا ان کے لئے ایک عام سی بات ہے۔

دریں اثنا نہرسوئزکوگہرا اور فراخ کرنے کا کام جاری ہے۔ جس کے بعد اگلے سال تک یہاں سے 22 میٹر گہرائی تک پانی میں ڈوبے Containership بھی گزر سکیں گے۔